بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جمعرات کو پنجاب میں مبینہ پیپر لیک معاملات کے خلاف دہلی میں عام آدمی پارٹی کے ہیڈکوارٹر کے باہر بڑا احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران پنجاب میں بھرتی اور مختلف امتحانات کے کئی پرچے لیک ہوئے، جس سے لاکھوں امیدواروں کا مستقبل متاثر ہوا۔ پارٹی نے ان معاملات کے لیے پنجاب کی AAP حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے وزیر تعلیم ہرجوت سنگھ بینس سے اخلاقی بنیادوں پر فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی نے احتجاج کیوں کیا؟
بی جے پی کا کہنا ہے کہ بار بار امتحانی پرچے لیک ہونے سے ریاست کے بھرتی نظام کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور نوجوانوں میں بعد امنی پیدا ہوئی ہے۔ اس سے قبل 28 جولائی کو بھی بی جے پی کے ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج کیا تھا۔ اس احتجاج کی قیادت راجیہ سبھا کی رکن سواتی مالیوال نے کی تھی، جہاں مظاہرین نے مبینہ پیپر لیک معاملات پر کاروائی کی اور ہرجوت سنگھ بینس کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔
اکالی دل نے کیا مطالبہ کیا؟
شرومنی اکالی دل نے بھی پنجاب حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ہرسمرت کور بادل نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے مطالبہ کیا کہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی حکومت کے دور میں پیش آنے والے مبینہ 11 امتحانی گھوٹالوں کی سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) سے جامع تحقیقات کرائی جائیں۔ ہرسمرت کور بادل نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ پنجاب کی عوام مکمل اور غیرجانبدار تحقیقات کے حقدار ہیں اور اس سے کم کچھ بھی قابل قبول نہیں ہوگا۔
کانگریس نےبھی کیا سوال
کانگریس نے بھی پنجاب حکومت پر بھرتی کے امتحانات کو شفاف بنانے میں ناکامی کا الزام لگایا ہے۔ پیر کے روز کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ ریاست میں متعدد امتحانی پیپر لیک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ برنالہ میں احتجاج کرنے والے صفائی کارکنوں کے خلاف پولیس کاروائی پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
معاملہ سیاسی طور پر اہم کیوں ہے؟
پنجاب میں مبینہ پیپر لیک کا معاملہ اب ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ بی جے پی، شرومنی اکالی دل اور کانگریس تینوں عام آدمی پارٹی حکومت پر بھرتی کے امتحانات میں شفافیت برقرار رکھنے میں ناکامی کا الزام لگا رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت سے جوابدہی اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ امکان ہے کہ یہ معاملہ آئندہ دنوں میں بھی پنجاب کی سیاست کا اہم موضوع بنا رہے گا۔