• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • مغربی بنگال انتخابات :بی جے پی نے جاری کیا 15 نکاتی انتخابی منشور

مغربی بنگال انتخابات :بی جے پی نے جاری کیا 15 نکاتی انتخابی منشور

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 10, 2026 IST

مغربی بنگال انتخابات :بی جے پی نے جاری کیا 15 نکاتی انتخابی منشور
بھارت کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے 10 اپریل کو 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ’سنکلپ پتر‘انتخابی منشور باضابطہ طور پر جاری کیا۔ اس دستاویز کو ریاست کو “مایوسی سے ترقی” کی طرف لے جانے کے روڈمیپ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو وزیرِ اعظم نریندر مودی کے وِکست بھارت وژن سے ہم آہنگ ہے۔ منشور میں ترقی، روزگار، خواتین کو بااختیار بنانے اور قومی سلامتی جیسے موضوعات پر زور دیا گیا ہے۔

 ٹی ایم سی حکومت پر تنقید 

امت شاہ نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کے 15 سالہ دورِ حکومت میں قانون و نظم کی مکمل تباہی ہوئی۔ انہوں نے کہا، “لوگوں نے ممتا دیدی کو بڑی امیدوں کے ساتھ مینڈیٹ دیا تھا، لیکن آج وہ دل سے تبدیلی چاہتے ہیں”، اور مزید کہا کہ بی جے پی کا وژن مکمل طور پر مودی کے وِکست بھارت مشن کے مطابق ہے۔

 بی جے پی کا منشور مایوسی سےترقی کا روڈ میپ 

امت شاہ نے کہا، “یہ منشور بنگال کے ہر طبقے کو مایوسی سے نکالنے کا راستہ ہے۔ یہ خوف میں گھیرے کسانوں کے لیے نئی راہیں دکھائے گا اور وزیرِ اعظم مودی کے ترقی یافتہ بھارت کے وژن کا روڈمیپ عوام کے سامنے رکھے گا۔” انہوں نے مزید کہا، “لوگ خوفزدہ اور مایوس ہیں۔ وہ دل سے تبدیلی چاہتے ہیں۔ آج ہم بنگال اسمبلی میں مرکزی اپوزیشن پارٹی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔”

“سونار بنگلا” بڑی تبدیلی کا وعدہ 

“سونار بنگلا” (سنہری بنگال) کے موضوع پر مبنی اس منشور میں حکمرانی کی ترجیحات میں بڑی تبدیلی کا وعدہ کیا گیا ہے، جس میں قومی سلامتی، نوجوانوں کے لیے روزگار اور خواتین کی حفاظت پر توجہ دی گئی ہے۔

15 نکاتی اعلان

اپنے اہم وعدوں کی فہرست پیش کرتے ہوئے امت شاہ نے 15 بڑے نکات کا اعلان کیا جو حکمرانی، ترقی اور سلامتی کے چیلنجز کو حل کرنے کے لیے ہیں۔ بی جے پی نے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے دراندازی کے خلاف سخت کارروائی کا وعدہ کیا ہے، جس کے تحت “شناخت، حذف اور ملک بدری” (detect, delete and deport) کی پالیسی اپنائی جائے گی۔

 وائٹ پیپر جاری  کیا جائےگا

مزید برآں، پارٹی ایک تفصیلی وائٹ پیپر جاری کرے گی جس میں ٹی ایم سی کے 15 سالہ دور میں مبینہ بدعنوانی، خراب ہوتی قانون و نظم کی صورتحال اور حکمرانی کی ناکامیوں کو اجاگر کیا جائے گا۔ نچلی سطح پر بدعنوانی کے خاتمے کے لیے “سنڈیکیٹ” نظام اور “کٹ منی” کلچر کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

 بیروزگار نوجوانوں کو 10 ہزار دینے کا دعدہ 

مالی معاملات میں، بی جے پی نے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے بقایا مہنگائی الاؤنس (ڈی اے) کی ادائیگی اور ساتویں پے کمیشن کے بروقت نفاذ کی یقین دہانی کرائی ہے۔ روزگار کے لیے پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریوں اور خود روزگاری کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ بے روزگار نوجوانوں کو 10,000 روپے کی مالی امداد دینے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔

 خواتین کو ماہانہ 3 ہزار روپئے مالی مدد

خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے خواتین پر مشتمل پولیس بٹالینز کے قیام، “درگا سرکشا سہایا” اسکیم کے نفاذ اور سرکاری ملازمتوں میں 33 فیصد ریزرویشن کا وعدہ کیا گیا ہے۔ خواتین کو ماہانہ 3,000 روپے کی مالی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔

 ثقافتی  شناخت کے اقدام 

ثقافتی اور لسانی شناخت کے حوالے سے، کرمالی اور راجبنشی زبانوں کو آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ زراعت کے شعبے میں چاول، آلو اور آم جیسی فصلوں کے لیے اضافی مدد فراہم کر کے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

 ماہی گیراور مویشی پالن کےلئے وعدہ 

ماہی گیری کے شعبے میں، تمام ماہی گیروں کو “پی ایم متسیہ سمپدا یوجنا” کے تحت رجسٹر کرنے اور مغربی بنگال کو ماہی گیری کی برآمدات کا مرکز بنانے کا ہدف ہے۔ قانونی اور انتظامی اصلاحات کے تحت یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے اور مویشی اسمگلنگ کے خلاف سخت قوانین بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

 چائے، پٹ سن اوریگرصنعتوں کی ترقی 

صنعتی اور علاقائی ترقی کے لیے چائے کے باغات کی بحالی، دارجلنگ چائے کے برانڈ کو مضبوط کرنے اور جوٹ (پٹ سن) کی صنعت کو جدید بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ صحت اور تعلیم کے شعبے میں آیوشمان بھارت سمیت مرکزی اسکیموں کے نفاذ، مفت ایچ پی وی ویکسینیشن، بریسٹ کینسر اسکریننگ اور شمالی بنگال میں اے آئی آئی ایم ایس، آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم جیسے اداروں کی توسیع کا وعدہ کیا گیا ہے۔

وندے ماترم میوزیم کا قیام 

آخر میں، بی جے پی نے قومی ورثے کے فروغ کے لیے ‘وندے ماترم’ میوزیم کے قیام اور مذہبی آزادی کی ضمانت دینے والا قانون نافذ کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔