تلنگانہ کے حلقہ اسمبلی حضورآباد کی نمائندگی کرنےوالے بی آرایس لیڈر پاڈی کوشک ریڈی نے ویناونکا منڈل میں منعقدہ منی میڈارم سممکا-سرلما جاترا کے دوران اپنی غیر قانونی گرفتاری پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے جمعہ کو قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کو ایک تحریک مراعات شکنی (Privilege Motion) پیش کی، جس میں اس واقعے کے ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
کوشک ریڈی نے الزام لگایا کہ جب وہ لوگوں کے ساتھ جاترا میں قبائلی دیوتاؤں کے درشن کر رہے تھے تو کریم نگر ضلع کے سی پی، حضور آباد اے سی پی اور جمی کنٹہ دیہی سی آئی نے انھیں غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے گرفتار کرنا اور قانون کی خلاف ورزی کرنا جمہوریت کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں جماعت کے دباؤ کی وجہ سے پولیس مشینری نے ایک ایم ایل اے کے حقوق کی خلاف ورزی کی اور یہ کاروائی قانون ساز اسمبلی کے وقار کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں انہوں نے اسپیکر سے درخواست کی ہے کہ ذمہ دار افسران کے خلاف ایوان کے حقوق کی خلاف ورزی کے تحت کاروائی کی جائے۔
اس کا جواب دیتے ہوئے کوشک ریڈی نے بعض عہدیداروں پر برسراقتدار پارٹی کی حمایت سے کام کرنے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگلے تین سالوں میں ریاست میں بی آر ایس حکومت کا قیام یقینی ہے، اور پھر انہوں نے متنبہ کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ان عہدیداروں پر پوری توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست اور ضلع میں کچھ عہدیدار بی آر ایس قائدین کو نشانہ بنارہے ہیں اور انہیں ہراساں کررہے ہیں اور انہیں یاد رکھا جائے گا۔
بعد میں کوشک ریڈی نے بھی ممبران اسمبلی کی نااہلی کی درخواست کی سماعت پر جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بی آر ایس کی جانب سے آج کی سماعت میں شریک ہوئے، لیکن بی جے پی کے ایم ایل اے مہیشور ریڈی، جنہوں نے عرضی داخل کی، اور خیریت آباد ایم ایل اے دانم ناگیندر، جو سماعت کا سامنا کررہے ہیں، غیر حاضر تھے۔ انہوں نے تنقید کی کہ ان کی غیر موجودگی نے بی جے پی اور کانگریس پارٹیوں کے درمیان پردے کے پیچھے سیاسی معاہدوں کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ دانم ناگیندر سمیت مزید 10 ایم ایل ایز کو نااہل قرار دے دیا جائے گا اور ریاست میں ضمنی انتخابات ہوں گے۔