- بدری ناتھ اورکیدارناتھ مندر میں غیرہندوؤں کو داخلہ نہیں
- KBTCمندر کمیٹی بورڈ کی تجاویز
- بورڈ کے آئندہ اجلاس میں تجاویزکی منظوری کا امکان
- بورڈ کے دائرہ اختیار میں دیگر مندروں پر بھی یہی ہوگا
اتراکھنڈ میں صدیوں پرانے بدری ناتھ اور کیدارناتھ مندر اب صرف ہندوؤں کے لیے کھلے رہیں گے۔ مندر انتظامیہ نے چار دھام مندروں میں غیر ہندوؤں کے داخلے پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔ کیدارناتھ اور بدری ناتھ ٹیمپل کمیٹی (KBTC) کی بورڈ میٹنگ میں ان تجاویز کو منظوری دی جائے گی۔
اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کے بی ٹی سی کے چیئرمین ہیمنت دویدی نے کہا کہ ان دونوں مندروں کے ساتھ ساتھ کمیٹی کے تحت دیگر مندروں میں بھی یہی قاعدہ لاگو ہوگا۔
گنگوتری دھام میں غیرہندوؤں کے داخلے پر پہلے ہی پابندی عائد ہے۔ اتوار کو گنگوتری مندر کمیٹی کی میٹنگ میں اس سلسلے میں متفقہ فیصلہ لیا گیا۔ اسی تناظرمیں KBTC کی تجویز بھی آئی ہے۔ تاہم یہ فیصلہ کب سے نافذ العمل ہوگا۔
واضح رہےکہ اتراکھنڈ ملک کی پہلی ریاست ہےجہاں یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ کا آغاز ہو چکا ہے۔ یکساں سول کوڈ کے تحت اب مسلمان نکاح، طلاق، عدت ، وراثت کی تقسیم وغیرہ جیسے معاملے اب غیراسلامی طریقہ سے ہوں گے یعنی ریاستی قانون کےمطابق ہوں گے۔ شرعی قانون پر عمل نہیں ہوگا۔
اس قانون کےتحت اب ایک سے زائد شادی پر بھی پابندی لگی ہے۔ اس ریاست میں مسلمان غیر مسلم سے زمین نہیں خرید سکتا۔ یو سی سی میں بنائے گئے دفعات میں شادی اور طلاق کے رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ لیو ان ریلیشن شپ کی رجسٹریشن کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے تحت ریاست کے لوگ شادی/طلاق اور لیو ان ریلیشن شپ رجسٹر کروا رہے ہیں۔