Thursday, January 29, 2026 | 10, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • سا ت سو سالہ درگاہوں سے متعلق کاروئی، مذہبی و آئین حقوق کی صریح خلاف ورزی

سا ت سو سالہ درگاہوں سے متعلق کاروئی، مذہبی و آئین حقوق کی صریح خلاف ورزی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 28, 2026 IST

سا ت سو سالہ درگاہوں سے متعلق کاروئی، مذہبی و آئین حقوق کی صریح خلاف ورزی
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کنگ جارج میڈیکل کالج، لکھنؤ کی جانب سے کیمپس سے متصل حضرت حاجی حرمین شاہؒ کے احاطے میں توڑ پھوڑ اور اب حضرت مخدوم شاہمینہؒ کے احاطے میں پانچ سو سالہ قدیم مزارات کے خلاف انہدامی نوٹس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کالج انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ وہ گمراہ کن پروپیگنڈا کے ذریعے وقف جائیدادوں کے سلسلے میں ملک کے قانون کی خلاف ورزی سے باز آئے اور بلاتاخیر اپنانوٹس واپس لے۔
 
مولانا مدنی نے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کنگ جارج میڈیکل کالج سے متصل مزارات سات سو سال سے زائد عرصے سے قائم ہیں، جب کہ کالج کا قیام 1912 میں عمل میں آیا۔ ایسی صورت میں میڈیا میں یہ تاثر دینا کہ کالج کے احاطے میں درگاہوں کا کیا کام ہے، سراسر جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ کالج کے قیام کے وقت، 1912 میں، محکمۂ مال (ریونیوڈپارٹمنٹ) نے درگاہ کی زمین کو یونیورسٹی کیمپس سے الگ حدبندی کے ذریعے واضح کر دیا تھا، جو اس کی مستقل اور علیحدہ قانونی حیثیت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔
 
مولانا مدنی نےمزید کہا کہ 26 اپریل 2025 کو سات سو سالہ قدیم آستانۂ حضرت حاجی حرمین شاہؒ کی حدود میں واقع وضوخانہ، عبادت گاہ اور زائرین کی آمد و رفت سے متعلق سہولیات کوپروفیسر ڈاکٹر کے۔ کے۔ سنگھ کی نگرانی میں مسمار کئے جانے کا عمل بھی غیر قانونی اور یک طرفہ عمل تھا جس سلسلے میں کوئی عدالتی حکم موجود نہیں ہے۔ لیکن یہ عمل میڈیا کے غلط بیانے کے شور میں انجام دیا گیا۔
 
مولانا مدنی نے کہا کہ جیسا کہ واضح ہے کہ مذکورہ اراضی وقف ایکٹ 1995 کے تحت باقاعدہ وقف جائیداد ہے اور سنی وقف بورڈ میں درج ہے۔ وقف قانون کے مطابق وقف جائیداد سے متعلق کسی بھی تنازع یا کارروائی کا اختیار صرف مجاز عدالت کو حاصل ہے، نہ کہ کسی تعلیمی ادارے یا اس کے کسی افسر کو۔ اس لیے اس نوعیت کے نوٹس اور دھمکی آمیز طرزِ عمل سراسر غیر قانونی ہیں۔
 
آخر میں مولانا مدنی نے کہا کہ ایسے مواقع پر وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ فعال اور متحرک کردار ادا کرے، قدیم آثار، مزارات اور معابد کی منظم نشاندہی کے لیے ایک خصوصی مہم چلائے۔ جو متذکرہ بالا درگاہ میں جو حصے منہدم کیے گئے ان کی بازیابی کا جائے اور متولیوں کو متعلقہ قانونی دستاویزات کی مصدقہ نقول فراہم کرے، تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات اور تنازعات کو مؤثر طور پر روکا جا سکے۔