• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • بنگلہ دیش میں ایک بار پھر سیاسی سرگرمیاں تیز ،فوج نے ہنگامی اجلاس کیا طلب ،محمد یونس کی حکومت کو خطرہ لاحق ؟

بنگلہ دیش میں ایک بار پھر سیاسی سرگرمیاں تیز ،فوج نے ہنگامی اجلاس کیا طلب ،محمد یونس کی حکومت کو خطرہ لاحق ؟

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Mia | Last Updated: Mar 25, 2025 IST     

image
بنگلہ دیش میں ایک بار پھر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں ۔ بنگلہ دیشی فوج نے ہنگامی اجلاس منعقد کیا ہے، جس سے محمد یونس کی حکومت کو خطرہ لاحق ہے۔اس بات کا امکان ہے کہ فوج عبوری حکومت کے سربراہ یونس کو ہٹا کر کنٹرول سنبھال سکتی ہے۔ اس اجلاس میں 5 لیفٹیننٹ جنرل، 8 میجر جنرل، آزاد بریگیڈز کے کمانڈنگ آفیسرز اور آرمی ہیڈ کوارٹرز کے اہم حکام سمیت دیگر فوجی حکام نے شرکت کی۔
 

بنگلہ دیش میں فوج یونس کے خلاف کارروائی کیوں کر سکتی ہے؟

بنگلہ دیش میں یونس کی قیادت میں حکومت کے قیام کے بعد حکومت کے تئیں لوگوں کا عدم اعتماد بڑھ گیا ہے اور بدامنی کی خبریں آرہی ہیں۔یونس حکومت بنگلہ دیش میں اس سال کے آخر تک عام انتخابات چاہتی ہے جس کی فوج کسی بھی قیمت پر مخالفت کرنا چاہے گی۔فوج کے اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ گزشتہ سال اگست میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں استحکام کی بحالی میں فوج نے اہم کردار ادا کیا ۔
 

گزشتہ سال اگست میں  ہوا تھابڑا تشدد :

بنگلہ دیش میں گزشتہ سال اگست میں طلبہ کی ایک زبردست تحریک کے بعد تشدد دیکھنے میں آیا، جس کی وجہ سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اپنی بہن کے ساتھ ہندوستان میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔حسینہ حکومت کی بغاوت کے بعد نوبل انعام یافتہ یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم کی گئی۔ حسینہ بھارت میں رہ کر سوشل میڈیا کے ذریعے بنگلہ دیش میں اپنا گراؤنڈ تیار کر رہی ہیں۔ 
 

 دارالحکومت ڈھاکہ میں فوجی سرگرمیاں تیز:

رپورٹ کے مطابق فوج کے ہنگامی اجلاس میں ملک میں استحکام لانے میں فوج کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق فوج یا تو صدر پر ملک میں ایمرجنسی لگانے کے لیے دباؤ ڈال سکتی ہے یا پھر وہ یونس حکومت کے خلاف بغاوت کر کے خود اقتدار پر قبضہ کر سکتی ہے۔ فوج اپنی نگرانی میں قومی اتحاد کی حکومت بنانے پر بھی غور کر سکتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بغاوت کی بات اس لیے بھی تیز ہوتی جا رہی ہے کہ بنگلہ دیشی فوج نے دارالحکومت ڈھاکہ میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ مشترکہ سیکورٹی فورسز نے اپنی گشت بڑھا دی ہے اور جمعہ کی صبح سے ہی مختلف مقامات پر اپنے چیک پوائنٹس قائم کرنا شروع کر دیے ہیں۔ 
 
قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش میں حالیہ مہینوں میں سیاسی جماعتوں اور طلبہ رہنماؤں نے بھی فوج کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ اس کی وجہ سے فوج کا ایک حصہ ناراض ہے اور ان مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ دریں اثنا، بغاوت کے خدشات کے درمیان، بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے مشیر محمد یونس جلد ہی چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ایسے میں سب کی نظریں محمد یونس کے دورہ چین پر بھی لگی ہوئی ہیں۔