بنگلورو کی ایک معروف پرائیویٹ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو ہفتہ کے روز ایک مسلم طالب علم کو کلاس روم کے سیشن کے دوران متعدد بار مبینہ طور پر "دہشت گرد" کہنے کے الزام میں معطل کر دیا گیا۔اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد طلباءاور، طلباء تنظیموں اور معاشرے میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پھیل گیا۔
ویڈیوسوشل میڈیا میں وائرل
یہ واقعہ، جو مبینہ طور پر 24 مارچ کو بناشنکری رنگ روڈ پر واقع یونیورسٹی کے کیمپس میں پیش آیا، اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک طالب علم کے ذریعہ ریکارڈ کیا گیا ویڈیو سوشل میڈیا پر منظر عام پر آیا اور وائرل ہوا۔
کلاس روم میں توہین
الزامات کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر مرلی دھر دیش پانڈے نے ایک لیکچر کے دوران ایک مسلم طالب علم کو، جس کی شناخت عفان کے نام سے کی گئی، کو بار بار نشانہ بنایا اور تقریباً 60 طلباء کے سامنے کم از کم 13 بار اسے "دہشت گرد" کہا۔پروفیسر پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے کئی تضحیک آمیز تبصرے کیے، جن میں ایسے بیانات شامل ہیں جیسے "ایران جنگ آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے ہوئی،" "ٹرمپ آپ کو لے جائے گا،" اور "تم احمق ہو، تم جہنم میں جاؤ گے"، جس کو طلباء نے عفان کے لیے کلاس روم کا ایک مخالفانہ اور ذلت آمیز ماحول قرار دیا۔
تعلیمی ادارے میں مذہبی امتیاز اور نفرت انگیزی کی مذمت
اس واقعے کی ویڈیو، جو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہے، میں دکھایا گیا ہے کہ پروفیسر مبینہ طور پر طالب علم کو باہر نکال رہے ہیں اور کلاس کے دوران جارحانہ تبصرے کرتے ہیں۔ اس واقعے پر شدید تنقید کی گئی ہے، بہت سے لوگوں نے اسے ایک تعلیمی ادارے میں مذہبی امتیاز اور نفرت انگیز تقریر کے طور پر اس کی مذمت کی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کو کیا گیا ڈیلیٹ
ایک اور پیش رفت میں، الزامات سامنے آئے ہیں کہ کلاس روم سے سی سی ٹی وی فوٹیج، جو اہم ثبوت کے طور پر کام کر سکتی تھی، کو حذف کر دیا گیا، جس سے احتساب اور شفافیت کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے۔
متاثرہ طالب علم کی حمایت پر دیگر طلبا کو کیا گیا معطل
مزید برآں، کچھ طلباء جنہوں نے مبینہ طور پر متاثرہ کی حمایت میں بات کی تھی، کو مبینہ طور پر معطل کر دیا گیا تھا، جس کی سرکاری وجہ "کلاس کے دوران بات کرنا" بیان کی گئی تھی۔
پروفیسر کا کالج انتظامیہ سے معافی نامہ
ذرائع نے بتایا کہ پروفیسر نے بعد میں کالج انتظامیہ سے تحریری معافی نامہ جاری کیا، تاہم انہوں نے طالب علم سے براہ راست معافی نہیں مانگی۔ کہا جاتا ہے کہ محکمہ کے سربراہ نے اپنی طرف سے معافی مانگ لی ہے۔ یہ بھی الزامات ہیں کہ طالب علم پر بالواسطہ دباؤ ڈالا گیا۔
طلبا تنظیم نے کیا سخت کاروائی کا مطالبہ
نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) سمیت طلبہ کے گروپوں نے اس واقعے کو "مذہبی نفرت انگیز تقریر" کی مثال قرار دیتے ہوئے ایک شکایت درج کرائی ہے اور سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
دیش پانڈے معطل، انکوائری جاری
ردعمل کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے پروفیسر دیش پانڈے کو معطل کر دیا اور کہا کہ اس واقعہ کی اندرونی انکوائری جاری ہے۔
پروفیسرکی مذہبی نفرت پرعوام میں تشویش
اس واقعے نے طلباء اورعوام میں خاصی تشویش پیدا کر دی ہے، جس میں احتساب کو یقینی بنانے اور تعلیمی اداروں میں امتیازی سلوک کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ٹیچر، اور استاد پروفیسر کو بچوں کا روحانی باپ قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن طلبا کے درمیان مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور کھلے عام توہین کرنا۔ مقدس پیشہ کےخلاف ہے۔ آج کل اساتذہ میں ہی اخلاق کا فقدان نظر آ رہا ہے تو نوجوان نسل سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔
سماج کو بناٹنے والوں کو تعلیمی اداروں سے رکھیں دور
حکومت کو چاہئے ایسے پروفیسر کو کسی بھی تعلیمی ادارے میں پڑھانے پابندی عائد کی جائے، ورنہ ایسے لوگ نوجوان نسل کو الگ الگ خانوں میں بانٹ کر ملک اور سماج کو تقسیم کی جانب لے جائیں گے۔