بہار کے دارالحکومت پٹنہ کے ہائی پروفائل اسمبلی حلقہ بنکی پور میں ہونے والے ضمنی انتخاب نے سیاسی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے۔ 'جن سوراج' کے بانی پرشانت کشور نے اس نشست سے انتخابی میدان میں اترنے کے بعد اپنی انتخابی حکمت عملی اور سیاسی ایجنڈے کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ پیر کو اے بی پی نیوز سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے اس ضمنی انتخاب کو بہار کی سیاست کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا۔
پرشانت کشور نے کہا کہ بنکی پور کا ضمنی انتخاب صرف ایک اسمبلی نشست کا مقابلہ نہیں بلکہ موجودہ ریاستی قیادت کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن سابق وزیر نتن نوین سے زیادہ موجودہ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت کا امتحان ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات نتیش کمار اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں لڑے گئے تھے، جبکہ اب پہلی مرتبہ سمراٹ چودھری کی قیادت میں عوام کا فیصلہ سامنے آئے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ یہ ضمنی انتخاب جیت جاتے ہیں تو اس کا واضح پیغام ہوگا کہ عوام نے موجودہ ریاستی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد بی جے پی کی مرکزی قیادت پر بھی دباؤ بڑھے گا۔ تاہم اگر انہیں شکست ہوتی ہے تو وہ اسے عوام کی جانب سے سمراٹ چودھری کی قیادت کی توثیق تصور کریں گے۔
پرشانت کشور نے کہا کہ اگرچہ وہ اس انتخاب میں آزادانہ طور پر میدان میں ہیں اور ان کے ساتھ کوئی مشترکہ اپوزیشن اتحاد موجود نہیں، لیکن بی جے پی، جے ڈی (یو)، آر جے ڈی اور کانگریس کے کئی کارکن اور حامی ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق عوام روایتی سیاست سے ہٹ کر نئی قیادت کو موقع دینا چاہتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنکی پور کو اگرچہ بی جے پی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، لیکن یہاں کے ووٹر باشعور ہیں اور مسائل کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ذات پات، مذہب اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ترقی، بہتر تعلیم، روزگار اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے ووٹ دیں۔
پرشانت کشور نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں سے وہ بہار میں متبادل سیاست کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں انہیں کامیابی نہیں ملی، لیکن ان کا مشن جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بار عوام انہیں موقع دیں گے تاکہ وہ ریاست کی سیاست کو نئی سمت دے سکیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو "جن سوراج" کا ایک نمائندہ بھی ایوان کے دیگر 242 ارکان پر اپنی مؤثر آواز سے نمایاں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اسمبلی کے اندر عوامی مسائل، ناانصافی اور بدعنوانی کے خلاف بھرپور انداز میں آواز بلند کریں گے اور ہر اس شہری کے ساتھ کھڑے ہوں گے جو خود کو نظام سے محروم یا نظرانداز محسوس کرتا ہے۔