Tuesday, March 10, 2026 | 20 رمضان 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • راجیہ سبھا انتخابات سے قبل تیجسوی یادو کی اہم میٹنگ، اویسی کی پارٹی نے بنائی دوری

راجیہ سبھا انتخابات سے قبل تیجسوی یادو کی اہم میٹنگ، اویسی کی پارٹی نے بنائی دوری

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Mar 10, 2026 IST

راجیہ سبھا انتخابات سے قبل تیجسوی یادو کی اہم میٹنگ، اویسی کی پارٹی نے بنائی دوری
بہار میں راجیہ سبھا انتخابات 2026 کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادو  نے منگل کو اپنے سرکاری رہائش گاہ پر پارٹی کے اراکینِ اسمبلی کے ساتھ اہم میٹنگ بلائی۔ اس میٹنگ میں پارٹی کے کئی سینئر رہنما، جن میں آلوک مہتا اور بھولا یادو شامل ہیں، شریک ہوئے۔ میٹنگ میں راجیہ سبھا انتخابات کی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس دوران آر جے ڈی کے لیے ایک غیر متوقع خبر بھی سامنے آئی ہے۔اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے اس میٹنگ سے خود کو الگ رکھا ہے۔
 
تیجسوی یادو کی میٹنگ کے بارے میں اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اختر الایمان نے کہا، ہمیں اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے، یہ ایک فیملی میٹنگ ہے، ایک سوال کے جواب میں، انہوں نے کہا، 'تیجسوی یادو سے پوچھیں کہ کیا انہیں ہماری ضرورت ہے، انہیں ہماری ضرورت ہوگی، اور پھر ہم فیصلہ کریں گے۔
 
تیجسوی یادو سے ابھی تک بات نہیں ہوئی اخترالایمان
 
اخترالایمان نے مزید کہا کہ راجیہ سبھا کی اس نشست کے لیے چھ امیدوار میدان میں ہیں، اس لیے انتخاب ہونا یقینی ہے۔ ان کے مطابق تیجسوی یادو چاہتے تھے کہ اے آئی ایم آئی ایم ان کی حمایت کرے، جبکہ پارٹی نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ اعلیٰ ایوان میں ان کی نمائندگی نہیں ہے، اس لیے اس پر غور کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ تیجسوی یادو نے کہا تھا کہ وہ دہلی سے واپس آ کر اس معاملے پر بات کریں گے، لیکن دہلی سے واپسی کے بعد اب تک کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
 
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اے آئی ایم آئی ایم کے ارکانِ اسمبلی اس میٹنگ میں شامل ہوں گے، تو انہوں نے کہا کہ جب پارٹی کو اس میٹنگ کی کوئی اطلاع ہی نہیں دی گئی تو شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ کے فیصلے پارٹی کی مرکزی قیادت سے مشورے کے بعد کیے جائیں گے۔
 
جیت کے لیے درکار ہیں 41 ووٹ
 
سیاسی مبصرین کے مطابق بہار سے ایک راجیہ سبھا نشست جیتنے کے لیے تقریباً 41 ووٹ درکار ہوتے ہیں، جبکہ مہاگٹھ بندھن کے تمام اتحادیوں کے پاس ملا کر صرف 35 ارکانِ اسمبلی ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آر جے ڈی اپنے امیدوار کو کامیاب بنانے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔