منصف ٹی وی کے مقبول پروگرام 'ہیلتھ اور ہم' میں آج “Air Pollution & Lung Health” کے موضوع پر ماہر ڈاکٹر، ڈاکٹر کنال واگھرے نے تفصیلی گفتگو کی۔ اس پروگرام میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اور اس کے پھیپھڑوں پر خطرناک اثرات کے بارے میں ناظرین کو آگاہ کیا گیا اور اس سے بچاؤ کے طریقے بھی بیان کیے گئے۔
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
ڈاکٹر کنال واگھرے کے مطابق ایئر پولوشن یعنی فضائی آلودگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہوا میں مضر گیسیں، دھواں، کیمیکل ذرات اور گرد و غبار کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ صنعتی فیکٹریوں کا دھواں، گاڑیوں سے نکلنے والی زہریلی گیسیں، کچرے یا فصلوں کو جلانا اور تعمیراتی سرگرمیاں فضائی آلودگی کی بڑی وجوہات ہیں۔ ان آلودہ ذرات کو جب انسان سانس کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کرتا ہے تو یہ براہِ راست پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فضائی آلودگی کے مسلسل اثر سے انسان مختلف سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ ان بیماریوں میں دمہ، برونکائٹس، پھیپھڑوں کا انفیکشن، سانس میں دشواری اور بعض صورتوں میں پھیپھڑوں کے کینسر جیسے سنگین مسائل بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر بچے، بزرگ افراد اور پہلے سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا مریض اس آلودگی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر کنال واگھرے نے وضاحت کی کہ ایئر پولوشن سے متاثر ہونے کی عام علامات میں مسلسل کھانسی، سانس پھولنا، سینے میں جکڑن، گلے میں خراش اور آنکھوں میں جلن شامل ہیں۔ اگر یہ علامات طویل عرصے تک برقرار رہیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
علاج کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے مریض کو آلودہ ماحول سے دور رکھنا اہم ہے۔ بعض صورتوں میں ڈاکٹر انہیلر، ادویات یا سانس کے علاج (Respiratory therapy) تجویز کرتے ہیں۔ شدید مریضوں کے لیے خصوصی طبی نگہداشت بھی ضروری ہوسکتی ہے۔
پروگرام میں انہوں نے عوام کو چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ مثال کے طور پر زیادہ آلودگی والے علاقوں میں ماسک کا استعمال، گھر میں ایئر پیوریفائر کا استعمال، درخت لگانا، گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال سے گریز اور صاف ماحول کو فروغ دینا نہایت اہم ہے۔