اکثر کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جو خاموشی سے جسم میں پیدا ہوتی ہیں اور جب تک ان کا پتہ چلتا ہے، صورتحال سنگین ہو چکی ہوتی ہے۔ برین اینیورزم (Brain Aneurysm) بھی ایسی ہی ایک خطرناک طبی حالت ہے جس کے بارے میں عوام میں آگاہی نہایت ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج ہو جائے تو مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے اور وہ نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔
برین اینیورزم کیا ہے؟
حیدرآباد کے یشودا اسپتال کی سینئر انٹروینشنل نیورو ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر منیشا جوشی نے منصف ٹی وی کےخاص پروگرام ہیلتھ اور ہم میں شرکت کی ۔ ڈاکٹر منیشا جوشی کے مطابق برین اینیورزم دراصل دماغ کی خون کی نالیوں میں کمزور جگہ بن جانے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ دل سے خون زیادہ دباؤ کے ساتھ دماغ کی رگوں میں پہنچتا ہے اور اگر کسی جگہ رگ کمزور ہو تو وہاں ابھار یا بلج بن جاتا ہے۔ اگر یہ کمزور حصہ پھٹ جائے تو دماغ کے اندر یا اردگرد شدید خون بہنے لگتا ہے، جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بیماری نسبتاً کم پائی جاتی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری نسبتاً کم پائی جاتی ہے۔ مختلف طبی مطالعات کے مطابق تقریباً ایک لاکھ افراد میں سے 10 سے 12 افراد میں برین اینیورزم پھٹنے کے کیس سامنے آتے ہیں، جبکہ مجموعی آبادی کے تقریباً 3 سے 5 فیصد افراد میں یہ مسئلہ موجود ہو سکتا ہے۔
اسباب اور خطرے کے عوامل
برین اینیورزم کی درست وجہ ابھی تک مکمل طور پر معلوم نہیں ہو سکی، تاہم کچھ عوامل اس کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔ ان میں ہائی بلڈ پریشر، سگریٹ نوشی، جینیاتی بیماریاں اور خاندانی تاریخ شامل ہیں۔ مثال کے طور پر پولی سسٹک کڈنی ڈیزیز کے مریضوں میں برین اینیورزم بننے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح بعض افراد میں پیدائشی طور پر جسم کے ٹشوز کمزور ہوتے ہیں جس سے خون کی نالیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
کسی بھی عمرمیں ہوسکتی ہے بیماری
یہ بیماری کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے، تاہم زیادہ تر کیسز 30 سے 60 سال کی عمر کے درمیان سامنے آتے ہیں اور خواتین میں اس کی شرح مردوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ دیکھی گئی ہے۔
علامات کیا ہوتی ہیں؟
اگر اینیورزم نہ پھٹے تو اکثر مریض کو کوئی واضح علامت محسوس نہیں ہوتی۔ بعض افراد کو سر درد، آنکھوں کے پیچھے درد، نظر کی کمزوری یا چہرے اور بازو میں کمزوری جیسے مسائل ہو سکتے ہیں۔
اچانک انتہائی شدید سر درد
لیکن اگر اینیورزم پھٹ جائے تو اچانک انتہائی شدید سر درد ہوتا ہے جسے طبی اصطلاح میں “تھنڈر کلاپ ہیڈیک” کہا جاتا ہے۔ مریض اسے زندگی کا سب سے شدید سر درد قرار دیتا ہے۔ اس کے علاوہ بے ہوشی، دورے، جسم کے ایک حصے میں کمزوری یا کوما جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں فوری طور پر اسپتال جانا نہایت ضروری ہوتا ہے۔
تشخیص اورعلاج
برین اینیورزم کی تشخیص کے لیے عام طور پر سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مزید تفصیل جاننے کے لیے اینژیوگرافی کی جاتی ہے جس سے دماغ کی خون کی نالیوں کی واضح تصویر سامنے آتی ہے۔
طریقہ علاج
علاج کے دو بنیادی طریقے ہیں۔ ایک اوپن سرجری جس میں سر کی ہڈی کھول کر اینیورزم کے مقام پر کلپ لگا دیا جاتا ہے۔ دوسرا جدید طریقہ اینڈوویسکولر ٹریٹمنٹ ہے جس میں بغیر دماغ کو کھولے خون کی نالیوں کے ذریعے کوائل یا اسٹنٹ ڈال کر اینیورزم کو بند کر دیا جاتا ہے۔
بروقت تشخیص علاج کے امکانات بہت زیادہ
ماہرین کے مطابق اگر بیماری کی بروقت تشخیص ہو جائے اور علاج جلد شروع کر دیا جائے تو مریض کی صحت یابی کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے اچانک شدید سر درد یا غیر معمولی علامات کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت طبی معائنہ ہی زندگی بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔ ڈاکٹر کا مکمل انٹرویو آپ یہاں دیکھ سکتےہیں۔