گھریلو حادثات ہوں یا کام کی جگہ پر پیش آنے والے واقعات، "برن انجریز" یعنی جسم کا جل جانا ایک ایسا تکلیف دہ تجربہ ہے جو نہ صرف انسان کی جلد بلکہ اس کی ذہنی صحت اور خود اعتمادی کو بھی بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ اکثر لوگ اسے ایک معمولی چوٹ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں یا غلط ٹوٹکوں کا سہارا لیتے ہیں، جو بعد ازاں سنگین پیچیدگیوں کا سبب بنتا ہے۔
منصف ٹی وی کے خاص پروگرام ہیلتھ اور ہم میں سنشائن ہاسپٹل، بیگم پیٹ (حیدرآباد) کے نامور پلاسٹک اینڈ ری کانسٹرکٹیو سرجن ڈاکٹر نشانت سادھنلا نے اس موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے کہ جل جانے کی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ قارئین آپ ڈاکٹر کی مکمل بات چیت یہاں دیکھ سکتےہیں ۔
جلنے کی اقسام (Types of Burns)
ڈاکٹر نشانت کے مطابق، جلنے کے حادثات کو ان کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
تھرمل برنز (Thermal Burns): یہ سب سے عام قسم ہے جو آگ (شعلوں)، گرم مائع (دودھ، چائے، پانی) یا بھاپ (اسٹیم) سے لگتی ہے۔
کیمیکل برنز (Chemical Burns): تیزاب یا الکلی جیسے کیمیکلز کے جلد پر گرنے سے ہونے والا نقصان۔
الیکٹریکل برنز (Electrical Burns): بجلی کا جھٹکا لگنے سے اندرونی اور بیرونی اعضاء کا جلنا۔
رگڑ یا کنٹیکٹ برنز (Contact Burns): گرم استری، توے یا بائیک کے سائلینسر سے براہ راست چھو جانے سے ہونے والی جلن۔
فروسٹ بائٹ (Frostbite): انتہائی کم درجہ حرارت یا برف کو براہ راست دیر تک پکڑنے سے بھی جلد جل سکتی ہے۔
برنز کی ڈگریاں: کتنا نقصان ہوا؟
طبی ماہرین جلد کے نقصان کی گہرائی کو چار درجات (Degrees) میں تقسیم کرتے ہیں:
فرسٹ ڈگری: صرف جلد کی اوپری تہہ (Epidermis) متاثر ہوتی ہے، جیسے سن برن۔
سیکنڈ ڈگری: جلد کی دوسری تہہ (Dermis) تک اثر پہنچتا ہے، جس سے آبلے یا چھالے (Blisters) بن جاتے ہیں۔
تھرڈ اور فورتھ ڈگری: یہ انتہائی خطرناک ہے جس میں جلد کی تمام تہیں، چربی اور بعض اوقات پٹھے (Muscles) بھی جل جاتے ہیں۔
فوری طبی امداد (First Aid): کیا کریں اور کیا نہ کریں؟
ڈاکٹر نشانت تاکید کرتے ہیں کہ حادثے کے پہلے چند منٹ بہت اہم ہوتے ہیں۔
کیا کریں؟
بہتا ہوا پانی: متاثرہ حصے کو فوراً نل کے بہتے ہوئے عام پانی (Normal Tap Water) کے نیچے 15 سے 20 منٹ تک رکھیں۔ یہ عمل درجہ حرارت کو کم کر کے نقصان کو مزید گہرائی تک پہنچنے سے روکتا ہے۔
زیورات اتارنا: انگوٹھی، گھڑی یا چوڑیاں فوراً اتار دیں کیونکہ دھات حرارت کو جذب کرتی ہے اور سوجن کی صورت میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
کپڑے ہٹانا: اگر کپڑوں پر گرم مائع گرا ہو تو انہیں احتیاط سے اتار دیں، بشرطیکہ وہ جلد سے چپکے نہ ہوں۔
صاف پٹی: متاثرہ جگہ کو کسی صاف کپڑے یا تولیے سے ڈھانپ کر فوری طور پر ہسپتال رجوع کریں۔
کیا نہ کریں؟ (عام غلطیاں)
برف کا استعمال: براہ راست برف نہ لگائیں، اس سے جلد کے ٹشوز مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
ٹوٹکے: ٹوتھ پیسٹ، تیل، ہلدی، شہد، چینی یا نیلا تھوتھا (اجالا) ہرگز نہ لگائیں۔ یہ انفیکشن کا سبب بنتے ہیں اور ڈاکٹر کے لیے زخم کا معائنہ کرنا مشکل کر دیتے ہیں۔
پلاسٹک سرجری کا کردار: صرف خوبصورتی نہیں، ضرورت!
عام تاثر یہ ہے کہ پلاسٹک سرجری صرف کاسمیٹک مقاصد کے لیے ہوتی ہے، لیکن برن انجریز میں اس کا کردار کلیدی ہے۔
اسکن گرافٹنگ: اگر جلد زیادہ جل جائے تو جسم کے دوسرے حصے سے جلد لے کر متاثرہ جگہ لگائی جاتی ہے۔
کونٹریکچر سے بچاؤ: جلنے کے بعد جلد سکڑنے لگتی ہے جس سے ہاتھ، پاؤں یا گردن ٹیڑھی ہو سکتی ہے۔ پلاسٹک سرجری اور فزیوتھراپی کے ذریعے اعضاء کی حرکت کو بحال رکھا جاتا ہے۔
نشانات (Scars) کا خاتمہ: جدید لیزر اور سرجیکل طریقہ کار سے جلنے کے بدنما نشانات کو کافی حد تک ختم کر کے مریض کی خود اعتمادی بحال کی جاتی ہے۔
والدین کےلئے اہم ہدایات
بچوں پر تشدد یا غصے میں گرم چیزوں کا استعمال ایک سنگین جرم اور نفسیاتی بیماری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ کچن میں حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور بچوں کو ذہنی طور پر محفوظ ماحول فراہم کریں۔ احتیاط ہمیشہ علاج سے بہتر ہے۔ کچن میں احتیاط برتیں، گیس سلنڈر اور برقی آلات کی باقاعدگی سے جانچ کریں اور حادثے کی صورت میں گھبرانے کے بجائے درست فرسٹ ایڈ کا استعمال کریں۔