سی او پی ڈی (COPD) ایک خطرناک اور بتدریج بڑھنے والی پھیپھڑوں کی بیماری ہے، جو مریض کے لیے سانس لینا مشکل بنا دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی، فضائی آلودگی، فیکٹریوں کی گرد و غبار اور دیہی علاقوں میں دھوئیں والے چولہوں کا استعمال اس بیماری کی بڑی وجوہات ہیں۔
سی اوپی ڈی اور دمہ(Asthma)ایک جیسی بیماریاں نہیں
سواسا ہاسپٹل نارائن گوڑہ، حیدرآباد کے کنسلٹنٹ کریٹیکل اینڈ انٹروینشنل پلمونولوجسٹ ڈاکٹر وویک وردھن ویراپنی نے منصف ٹی وی ایک خصوصی پروگرام ،ہیلتھ اور ہم ، میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سی او پی ڈی اور دمہ (Asthma) ایک جیسی بیماریاں نہیں ہیں۔ دمہ قابلِ علاج اور ریورس ہونے والی بیماری ہے، جبکہ سی او پی ڈی میں پھیپھڑوں کو پہنچنے والا نقصان مستقل ہوسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس بیماری میں پھیپھڑوں کی لچک کم ہوجاتی ہے، جس کے باعث مریض کو مسلسل کھانسی، بلغم اور سانس پھولنے کی شکایت رہتی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں لوگ اسے عام کھانسی یا تھکن سمجھ کر نظرانداز کردیتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ یہ بیماری جان لیوا صورت اختیار کرسکتی ہے۔
ڈاکٹر وویک کے مطابق ہندوستان میں سی او پی ڈی کے مریضوں اور اس سے ہونے والی اموات کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کی اہم وجہ فضائی آلودگی، سگریٹ نوشی اور بایوماس فیول یعنی لکڑی یا اُپلے کے دھوئیں کا زیادہ استعمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں سگریٹ اور پولوشن جبکہ دیہی علاقوں میں دھوئیں والے چولہے اس مرض کو بڑھا رہے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ روزانہ صرف ایک سگریٹ بھی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق سی او پی ڈی اکثر 50 سال کی عمر کے بعد ظاہر ہوتی ہے، لیکن اب نوجوانوں میں بھی اس کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔
ڈاکٹر وویک نے کہا کہ اگر کسی شخص کو مسلسل کھانسی، سانس پھولنے، سیڑھیاں چڑھنے میں دشواری یا بار بار بلغم کی شکایت ہو تو فوراً پلمونولوجسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ اسپائرو میٹری جیسے ٹیسٹ کے ذریعے بیماری کی بروقت تشخیص ممکن ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سی او پی ڈی کے علاج میں انہیلرز اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی عادت نہیں پڑتی۔ علاج میں ادویات، ویکسین، ورزش، ہائی پروٹین غذا اور پلمونری ری ہیبلیٹیشن شامل ہیں۔ فلو اور نمونیا سے بچاؤ کی ویکسین بھی مریضوں کے لیے ضروری قرار دی گئی۔
ماہرین کے مطابق سی او پی ڈی صرف پھیپھڑوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ دل، پٹھوں اور جسم کے دیگر حصوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ اس لیے تمباکو نوشی ترک کرنا، ماسک کا استعمال اور بروقت علاج ہی اس بیماری سے بچاؤ کا مؤثر طریقہ ہے۔
قارئیں ڈاکڑ وویک کی مکمل گفتگو پر مشتمل ویڈیو آپ یہاں دیکھ سکتےہیں۔