Wednesday, May 20, 2026 | 02 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • بچوں میں بار بار یوٹی آئی(پیشاب کی نالی کے انفیکش)خطرے کی گھنٹی

بچوں میں بار بار یوٹی آئی(پیشاب کی نالی کے انفیکش)خطرے کی گھنٹی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: May 20, 2026 IST

بچوں میں بار بار یوٹی آئی(پیشاب کی نالی کے انفیکش)خطرے کی گھنٹی
منصف ٹی وی کےخاص پروگرام  ہیلتھ  اور ہم میں ماہرِ امراضِ اطفال و گردہ ڈاکٹر روی دیپ یلاورتی نے کہا ہے کہ بچوں میں بار بار ہونے والا یورینری ٹریکٹ انفیکشن (UTI) معمولی مسئلہ نہیں بلکہ گردوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر کسی بچے کو چھ ماہ یا ایک سال کے اندر دو یا تین مرتبہ یو ٹی آئی ہو تو اسے “ریکرنٹ یو ٹی آئی” سمجھا جاتا ہے اور فوری طبی معائنہ ضروری ہوجاتا ہے۔
 
ڈاکٹر روی دیپ کے مطابق یو ٹی آئی اس وقت ہوتا ہے جب بیکٹیریا پیشاب کے نظام، یعنی گردوں، مثانے یا یورین پاسج میں داخل ہوکر انفیکشن پیدا کرتے ہیں۔ اگر انفیکشن بار بار ہو تو گردوں میں مستقل نقصان یا “کڈنی اسکارنگ” کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو مستقبل میں ہائی بلڈ پریشر اور کرونک کڈنی ڈیزیز کا سبب بن سکتا ہے۔
 
انہوں نے بتایا کہ بچوں میں یو ٹی آئی کی عام علامات میں بار بار پیشاب آنا، پیشاب میں جلن، بدبو، بخار، پیٹ درد، چڑچڑاپن اور بستر گیلا کرنا شامل ہیں۔ چھوٹے بچے اکثر اپنی تکلیف بیان نہیں کر پاتے، اس لیے والدین کو ان علامات پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ماہرین کے مطابق قبض بچوں میں ریکرنٹ یو ٹی آئی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ قبض کی صورت میں مثانہ مکمل طور پر خالی نہیں ہوپاتا، جس سے بیکٹیریا بڑھنے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ پیشاب روکنے کی عادت، کم پانی پینا، غیر صحت بخش غذا اور صفائی کا فقدان بھی انفیکشن کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
 
ڈاکٹر روی دیپ نے کہا کہ خاص طور پر بچیوں میں صفائی کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ ڈائپر وقت پر تبدیل کرنا، واش روم استعمال کرنے کے بعد صفائی صحیح طریقے سے کرنا اور زیادہ دیر تک پیشاب نہ روکنا اہم احتیاطی تدابیر ہیں۔تشخیص کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ یو ٹی آئی کی جانچ کے لیے یورین ٹیسٹ اور یورین کلچر ضروری ہوتے ہیں۔ بعض بچوں میں الٹراساؤنڈ، ایم سی یو جی اور ڈی ایم ایس اے اسکین بھی کرانا پڑتا ہے تاکہ گردوں یا یورین پاسج میں پیدائشی خرابیوں کا پتہ چل سکے۔
 
ڈاکٹر نے والدین کو خبردار کیا کہ بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے اینٹی بایوٹک استعمال نہ کریں، کیونکہ اس سے اینٹی بایوٹک ریزسٹنس کا خطرہ بڑھتا ہے۔ گھریلو ٹوٹکے صرف وقتی آرام دے سکتے ہیں، لیکن مکمل علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ ماہرین نے بچوں کے لیے متوازن غذا، فائبر سے بھرپور خوراک، زیادہ پانی اور مناسب ہائیڈریشن کو یو ٹی آئی سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ والدین بچوں میں ٹوائلٹ ٹریننگ اور صفائی کی عادتیں شروع سے ہی پیدا کریں تاکہ مستقبل میں پیچیدگیوں سے بچا
جاسکے۔
 
 قارئین: ڈاکٹرروی دیپ یالاورتی کی "بار بار پیشاب کی نالی کے انفیکشن (یوٹی آئی): وجوہات، انتباہی علامات اور روک تھام" کے موضوع پر  مکمل  بات چیت کا ویڈیو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔