Wednesday, May 20, 2026 | 02 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکی کانگریس کی رپورٹ میں 42 طیاروں کے نقصان کا دعویٰ، تہران کا بڑا ردعمل

امریکی کانگریس کی رپورٹ میں 42 طیاروں کے نقصان کا دعویٰ، تہران کا بڑا ردعمل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: May 20, 2026 IST

 امریکی کانگریس کی رپورٹ میں 42 طیاروں کے نقصان کا دعویٰ، تہران کا بڑا ردعمل
امریکی کانگریس کی تحقیقی ایجنسی کانگریشنل ریسرچ سروس (CRS) کی ایک حالیہ رپورٹ نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران تقریباً 42 امریکی طیارے یا تو تباہ ہوئے یا شدید نقصان کا شکار ہوئے۔ 
 
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی مسلح افواج جدید امریکی جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ امریکی کانگریس نے اب اربوں ڈالر مالیت کے درجنوں طیاروں کے نقصان کو تسلیم کر لیا ہے۔
 
عراقچی نے دعویٰ کیا کہ اس تنازع سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران کی دفاعی طاقت جدید ترین F-35 جنگی طیاروں کو بھی مار گرانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر دوبارہ جنگ کی صورتحال پیدا ہوئی تو اس کے نتائج مزید خطرناک اور غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔
 
رپورٹ کے مطابق 42 طیاروں کے نقصان کا یہ ابتدائی تخمینہ ہے اور حقیقی تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ متعدد فوجی واقعات کی تفصیلات اب بھی خفیہ رکھی گئی ہیں۔ سی آر ایس کے مطابق نقصان اٹھانے والے طیاروں میں اسٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے اور خصوصی آپریشنز کیلئے استعمال ہونے والے کئی طیارے شامل ہیں۔
 
کانگریشنل ریسرچ سروس امریکی کانگریس کو قانونی اور پالیسی معاملات پر تجزیاتی معاونت فراہم کرنے والی ایک اہم ایجنسی ہے۔ اس رپورٹ کی تیاری میں امریکی محکمہ دفاع، امریکی سینٹرل کمانڈ اور مختلف میڈیا رپورٹس کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
 
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ نقصانات “آپریشن ایپک فیوری” کے دوران ہوئے، جو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ 40 روزہ فضائی مہم تھی۔ یہ مہم 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف شروع کی گئی تھی۔
 
دستاویز کے مطابق 12 مئی 2026 کو ہونے والی ایک سماعت کے دوران پینٹاگون کے کمپٹرولر جولس ڈبلیو ہرسٹ III نے بتایا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں پر امریکی محکمہ دفاع کے اخراجات کا تخمینہ 29 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
 
تاہم امریکی پینٹاگون نے اب تک مجموعی فوجی نقصانات کے حوالے سے کوئی باضابطہ اور حتمی اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں، جس کی وجہ سے اس رپورٹ پر عالمی سطح پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔