Wednesday, January 14, 2026 | 25, 1447 رجب
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • کولکاتا ہائی کورٹ میں آئی-پی اے سی دفتر پر ای ڈی کی کارروائی پر سماعت

کولکاتا ہائی کورٹ میں آئی-پی اے سی دفتر پر ای ڈی کی کارروائی پر سماعت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jan 14, 2026 IST

کولکاتا ہائی کورٹ میں آئی-پی اے سی دفتر پر ای ڈی کی کارروائی پر سماعت
کولکاتا ہائی کورٹ میں آئی- پی اے سی (I-PAC) کے دفتر پر ای ڈی کی چھاپہ مار کارروائی کے معاملے پر سماعت شروع ہو گئی ہے۔ جانچ ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے وکیل نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے سے متعلق ایک عرضی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، جس پر جلد سماعت ہو سکتی ہے، اس لیے آج اس کیس کی سماعت ملتوی کی جائے۔ تاہم مغربی بنگال حکومت کے وکیل نے ای ڈی کی اس درخواست کی مخالفت کی۔
 
ہمیں سیاسی ڈیٹا کی حفاظت چاہیے، ترنمول کانگریس
 
ترنمول کانگریس کے وکیل نے کہاکہ ہم سپریم کورٹ میں فریق نہیں ہیں۔ چھاپہ مار کارروائی ہوئی تھی، ہماری پرائیویسی برقرار رہنی چاہیے۔ ہم ایک آئینی جمہوریت میں رہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا سیاسی ڈیٹا محفوظ رہے۔ ہمیں رازداری کا حق حاصل ہے۔ ہماری یہی مانگ ہے کہ ہمارے سیاسی ڈیٹا کو محفوظ رکھا جائے، نہ اسے میڈیا میں جاری کیا جائے اور نہ ہی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔
 
چھاپے کا ٹی ایم سی سے کوئی تعلق نہیں، ای ڈی
 
ای ڈی کے وکیل نے کہا کہ جانچ ایجنسی کی جانب سے کوئی بھی ریکارڈ ضبط نہیں کیا گیا۔ یہ عرضی ایک اجنبی شخص کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ براہِ کرم دیکھیں کہ درخواست گزار آخر ہے کون اور وہ کس طرح متاثر ہوا، کیونکہ وہ چھاپے کے وقت موجود ہی نہیں تھا۔ اس جانچ کا ترنمول کانگریس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جس شخص کے گھر اور دفتر پر چھاپہ پڑا، وہ خود عدالت میں پیش نہیں ہوا۔
 
ہمارے پاس کچھ نہیں، ممتا بنرجی فائلیں لے گئیں، ای ڈی
 
ای ڈی کے وکیل نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے کوئی بھی دستاویز ضبط نہیں کی گئی، بلکہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خود دستاویزات لے کر گئیں۔ انہوں نے غیر قانونی طور پر ریکارڈ اپنے قبضے میں لیا ہے، جو ایک جرم ہے۔ جب تک ٹی ایم سی کی جانب سے انہیں فریق نہ بنایا جائے، یہ عرضی قابلِ سماعت نہیں ہے۔
 
اس پر ترنمول کانگریس کی وکیل نے کہا کہ ای ڈی کے وکیل کے اس بیان کو کہ کوئی دستاویز ضبط نہیں کی گئی، عدالت اپنے ریکارڈ پر لے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ براہِ راست انتخابات سے جڑا ہوا ہے اور ان کی نیت یہی ہے کہ انتخابات منصفانہ طریقے سے منعقد ہوں۔ ای ڈی کے وکیل نے ایک بار پھر دہرایا کہ ان کی جانب سے کچھ بھی ضبط نہیں کیا گیا، بلکہ ممتا بنرجی دستاویزات ضبط کر کے وہاں سے چلی گئیں۔