نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی اور سری نگر کے سابق میئر جنید عظیم متو کے خلاف سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ سری نگر پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے لوگوں میں خوف پیدا کرنے اور مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر غلط مواد پوسٹ کیا۔ واضح رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای ایران پر امریکی اسرائیلی فورسز کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران پرحملوں اور خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت میں سری نگرمیں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ایم پی آغا سید روح اللہ مہدی پر الزم ہےکہ وہ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اس سے متعلق ایک جعلی ویڈیو پوسٹ کی۔ اس پرتعزیرات ہند کی دفعہ 197(1)(d) اور 353(1)(b) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے دونوں واقعات کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس نے کہا کہ لوگ اپنی معلومات کی تصدیق سرکاری اور قابل اعتماد ذرائع سے کریں۔ ایم پی مہدی اور سابق میئر متو نے اپنے ایکس میں انکشاف کیا کہ ان کی سیکیورٹی میں کمی کی گئی ہے۔
آغا روح اللہ مہدی نے کہاکہ مقدامات کےاندراج اور سیکورٹی میں کمی سے انکی آواز کو ہر گز دبایا نہیں جا سکتا۔ انھوں نے کہاکہ وہ اپنے آئینی حقوق کا استعمال جاری رکھیں گے۔ اور قانون،آزادی اور جمہوریت کے خلاف ورزیوں کےخلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔ سری نگر کےسابق میئرمتو نے کہاکہ وہ انسانیت اور انصاف کے قتل کےخلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
ایف آئی آر کے اندراج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے روح اللہ کے دفتر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا: "سرینگر کے لوگوں نے اپنے ایم پی کو حکومت سے منظور شدہ تعزیت کے لیے نہیں منتخب کیا، انہوں نے اسے سچ بولنے کے لیے منتخب کیا۔ یہ مینڈیٹ ایف آئی آر کے ساتھ ختم نہیں ہوتا۔"امریکی اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کے بعد حکام نے وادی میں پابندیاں عائد کر دی ہیں اور تمام تعلیمی اداروں کو 7 مارچ تک بند کر دیا ہے۔