چھتیس گڑھ قانون ساز اسمبلی کا مانسون اجلاس 13 جولائی سے شروع ہو رہا ہے، اور اس بار اجلاس کے ہنگامہ خیز ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ یہ اجلاس صرف پانچ دن چلے گا، لیکن اس کے لیے اسمبلی کے ارکان نے 1,033 سوالات اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائے ہیں، جن پر حکومت کو جواب دینا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق ان سوالات میں گزشتہ تین مہینوں کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات اور عوام کو درپیش مختلف مسائل شامل ہیں۔ حکومت اس اجلاس میں وہ سرکاری بل اور دیگر قانونی کام مکمل کرنا چاہتی ہے جو ابھی باقی ہیں۔ وہیں اپوزیشن اور برسر اقتدار جماعت کے ارکان مختلف سرکاری محکموں کی کارکردگی پر سوال اٹھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس اجلاس میں سب سے زیادہ توجہ کسانوں کے مسائل پر ہے۔ ارکان اسمبلی نے موجودہ خریف(مانسون ) فصل کے موسم میں کسانوں کو پیش آنے والی مشکلات اور فصل کی خریداری کے انتظامات پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔
اس کے علاوہ سرسوں کی سرکاری خریداری وقت سے پہلے بند کیے جانے کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا جائے گا۔ اس فیصلے کی وجہ سے کئی کسانوں کو اپنی فصل کم قیمت پر نجی تاجروں (Private traders) کو فروخت کرنی پڑی، جس سے انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ ارکان نے کھاد اور بیج کی قلت کے مسئلے پر بھی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔
اجلاس کے دوران ہسدیو ارنیہ (Hasdeo Aranya) علاقے میں کوئلے کی کان کنی کے لیے درختوں کی کٹائی کی اجازت دینے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔ اس فیصلے پر پہلے ہی مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آ چکے ہیں، اس لیے اسمبلی میں اس پر بحث ہونے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ نوا رائے پور کے نکتی گاؤں میں غریب لوگوں کے مکانات پر بلڈوزر چلانے کا معاملہ بھی اسمبلی میں زور و شور سے اٹھایا جائے گا۔ اپوزیشن ان مسائل کو لےکر عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
کانگریس قانون ساز پارٹی اجلاس شروع ہونے سے ایک دن پہلے اپنی میٹنگ کرے گی، دوسری طرف برسراقتدار جماعت بھی اپوزیشنپارٹی کے ممکنہ حملوں کا جواب دینے اور اسمبلی میں اپنا مؤقف مضبوط انداز میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
مجموعی طور پر پانچ دن کامانسون اجلاس میں کسانوں کے مسائل، س سوں کی خریداری، کھاد اور بیج کی قلت، ہسدیو ارنیہ میں درختوں کی کٹائی، نکتی گاؤں میں بلڈوزر کاروائی اور دیگر عوامی معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت بحث اور ہنگامہ ہونے کا امکان ہے۔