• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکا میں ووٹنگ کے لیے دینے ہوں گے شہریتی دستاویزات ، ڈونلڈ ٹرمپ نے جاری کیا حکم

امریکا میں ووٹنگ کے لیے دینے ہوں گے شہریتی دستاویزات ، ڈونلڈ ٹرمپ نے جاری کیا حکم

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Mia | Last Updated: Mar 26, 2025 IST     

image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب ملک میں انتخابی عمل کے حوالے سے بڑے فیصلے  لیے ہیں۔ اب امریکی وفاقی انتخابات(Federal election) میں ووٹ ڈالنے کے لیے ووٹرز کو شہریت کی دستاویزات دکھانے ہوں گے۔اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ووٹنگ رجسٹریشن نہیں ہو گی۔ٹرمپ نے 25 مارچ کو اس سلسلے میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں ۔اس کے علاوہ بیلٹ پیپرز کے ذریعے ووٹ ڈالنے والوں کے لیے بھی قوانین میں تبدیلی کی جائے گی۔
 

ٹرمپ کا حکم کیا ہے؟

حکم نامے کے مطابق ووٹر رجسٹریشن فارم میں ترمیم کی جائے گی۔ اب ووٹرز کو فارم کے ساتھ شہریت کا دستاویز بھی جمع کرنا ہو گا، جیسے کہ امریکی پاسپورٹ یا برتھ سرٹیفکیٹ۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہندوستان میں، ہم ووٹ ڈالتے وقت اپنا ووٹر شناختی کارڈ یا آدھار کارڈ ساتھ رکھتے ہیں۔اس آرڈر میں ریاستوں سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ووٹر فہرستوں کو نظرثانی کے لیے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی (DOGE) کو بھیج دیں ۔
 

تبدیلی کیوں کی گئی؟

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایک سرکردہ خود مختار ملک ہونے کے باوجود، امریکہ "بنیادی اور ضروری انتخابی حفاظتی اقدامات" کو نافذ کرنے میں ناکام رہا ہے جو جدید، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے ذریعے اٹھائے جاتے ہیں۔ہندوستان کی مثال دیتے ہوئے آرڈر میں کہا گیا ہے کہ "ہندوستان اور برازیل ووٹر کی شناخت کو بائیو میٹرک ڈیٹا بیس سے جوڑ رہے ہیں، جب کہ امریکہ شہریت کے لیے خود کی تصدیق پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
 

پوسٹل بیلٹ کے ساتھ ووٹ ڈالنے کے اصول بھی تبدیل!

ٹرمپ کے نئے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق صرف انتخابات کے دن موصول ہونے والے پوسٹل بیلٹس کو ہی شمار کیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ انتخابات ختم ہونے کے بعد موصول ہونے والے پوسٹل بیلٹ کو غلط تصور کیا جائے گا اور اسے شمار نہیں کیا جائے گا۔نئے حکم نامے میں غیر ملکی شہریوں کو امریکی انتخابات میں چندہ دینے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ حالیہ انتخابات میں غیر ملکی عطیات کا معاملہ خوب اٹھا تھا ۔
 

آنے والے دنوں میں مزید سخت فیصلے لیے جائیں گے:ٹرمپ 

ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کرنے کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ’’انتخابی اصلاحات سے متعلق کئی اور بڑے فیصلے آنے والے ہفتوں میں کیے جائیں گے۔ساتھ ہی ووٹنگ کے حقوق کی تنظیموں اور ڈیموکریٹک پارٹی نے ان احکامات کی مذمت کی ہے۔ کولوراڈو کی سکریٹری آف اسٹیٹ جینا گریسوالڈ نے کہا، "ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر غیر قانونی ہے۔ یہ اہل امریکیوں کو اپنے ووٹ کے  حق کا استعمال کرنے سے روک دے گا۔کئی ریاستوں نے اس حکم کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کی تیاری کی ہے۔