کانگریس نےنیٹ پیپر لیک کے خلاف ملک بھر میں جاری طلباء کے احتجاج اور مبینہ پولیس کارروائی کو لے کر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ سے ایوان میں آکر وضاحت دینے اور طلباء کے خلاف کی گئی کارروائی پر جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس لیڈر پون کھیرا نے راجیہ سبھا کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے ایک بار پھر ملک بھر میں نوجوانوں پر ہونے والے تشدد کا معاملہ ایوان میں اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بہار کے سیوان میں پیش آئے فائرنگ کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ طلباء کے خلاف اے کے 47 کا استعمال کیا گیا۔
پون کھیرا نے کہا، ہمارا مطالبہ بالکل واضح ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ ایوان میں آئیں اور اس پورے معاملے پر جواب دیں۔ 20 تاریخ سے شروع ہونے والی کارروائیاں اب ملک کے مختلف حصوں تک پہنچ چکی ہیں۔ بنگال سے لے کر بہار تک نوجوانوں کے خلاف پولیس کی سخت کارروائیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ یہ ملک کے نوجوان ہیں، اس لیے وزیر داخلہ کو پارلیمنٹ میں جواب دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیوان میں جو کچھ ہوا، اس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے واقعات کی وضاحت کرے، ذمہ داروں کا تعین کرے اور عوام کو اعتماد میں لے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اگر کہیں پیلٹ گن یا دیگر ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا، اس پر بھی حکومت کو وضاحت دینی چاہیے۔
عمران پرتاپ گڑھی کا مودی حکومت پر حملہ
وہیں دوسری طرف کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں سے پولیس کی مبینہ سخت کارروائیوں کی تصاویر سامنے آ رہی ہیں، جو تشویش کا باعث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طلباء اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، اس لیے حکومت کو ان سے بات چیت کرنی چاہیے، نہ کہ طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔
عمران پرتاپ گڑھی نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں آکر بتائیں کہ دہلی سمیت مختلف مقامات پر احتجاج کرنے والے طلباء، خصوصاً طالبات، کے خلاف کارروائی کس کی ہدایت پر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف اپوزیشن کا نہیں بلکہ ملک بھر کے والدین اور نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے ان الزامات پر کیا مؤقف اختیار کیا جاتا ہے، اس پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس میں طلباء کے احتجاج، پولیس کارروائی اور این ای ای ٹی پیپر لیک کا معاملہ دونوں ایوانوں میں موضوعِ بحث رہے گا۔