کرناٹک میں ایس آئی آر کے عمل پر سیاسی اختلافات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ریاستی میں جاری ووٹر فہرستوں پر خصوصی نظر ثانی ( ایس آئی آر )کے معاملے پر سیاست عروج پر ہے۔ اپوزیشن بی جےپی اور جے ڈی ایس نے حکمراں کانگریس پرسنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ ایس آئی آر کے عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا ہے۔ا ور ایس آئی آر کو روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی الیکشن کمیشن سے مانگ کی ہے۔ وہیں کانگریس نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئےکہاکہ ایس آئی آر، کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہوتی ہے ریاستی حکومت کی نہیں۔
بے ضابطگیوں کا الزام کاروائی کا مطالبہ
اپوزیشن لیڈر آر اشوک نے الزام عائد کیا ہے کہ متعدد علاقوں میں انتخابی ضوابط کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بوتھ لیول افسران گھر گھر جا کر فارم تقسیم اور وصول کرنے کے بجائے عوامی مقامات پر فارم بانٹ رہے ہیں۔جو مقررہ رہنما اصولوں کے خلاف ہے۔آر اشوک نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر بھی موجود ہیں، اور انہوں نے فوری کاروائی کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے۔
سی ای او سے جے ڈی ایس کی شکایت
جنتا دل (سیکولر) نے رام نگر اسمبلی حلقے میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر سے باضابطہ شکایت کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ انتخابی ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھر گھر فارم تقسیم کرنے کے بجائے خصوصی کیمپ منعقد کیے جا رہے ہیں۔جس سے ایس آئی آر کے عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔نکھل کمارا سوامی نے اس سلسلے میں دہلی تک جانے کی بات کہی ہے ۔
یہ عمل بے معنی اور اس کی فوری منسوخی کا مطالبہ
کرناٹک میں ووٹر فہرستوں کی ایس آئی آر کے معاملے پر سیاست عروج پر ہے۔ مرکزی وزیر اور جنتا دل (سیکولر) کے ریاستی صدر ایچ ڈی کماراسوامی نے ایس آئی آر کے عمل کو غیر شفاف قرار دیا۔اور ایس آئی آر کے عمل کو فوری طور پر منسوخ کر کے نئے سرے سے ایس آئی آر کرانے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو پہلے ہی مکتوب ارسال کیا جا چکا ہے۔
مرکزی الیکشن کمیشن سے ملاقات
بھاری صنعتوں اور اسٹیل کے مرکزی وزیر ایچ ڈی کمارسوامی نے کہا کہ وہ پیر کو رائے دہندگان کی فہرست میں بے قاعدگیوں کے بارے میں مکمل تفصیلات کے ساتھ دہلی جائیں گے اور مرکزی الیکشن کمیشن سے ملاقات کریں گے، اور موجودہ عمل کو روکنے اور شفاف نظرثانی کی درخواست کریں گے۔
ریاستی کانگریس حکومت پر تنقید
انہوں نے اس معاملے پر کرناٹک کانگریس حکومت، کے پی سی سی صدر بی کے ہری پرساد اور وزیر داخلہ پرینک کھرگے کی خاموشی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رام نگر جیسے اضلاع میں سرکاری مشینری کا غلط استعمال کرتے ہوئے غلط ووٹوں کا اندراج کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی، انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کے نام پر بنگلورو میں اسٹریٹ فروشوں کو ہٹانے پر حکومت کے موقف پر تنقید کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی روزی روٹی متاثر ہونے سے پہلے متبادل انتظامات کئے جائیں۔
وزیر داخلہ کھرگے نے الزامات کو کیا مسترد
کرناٹک میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرِ ثانی، کے معاملے پرریاستی وزیر پریانک کھرگے نے اس حوالے سے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کردیا ۔انہوں نے کہا کہ اس پورے عمل کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ایس آئی آر کے طریقۂ کار سے متعلق اٹھائے گئے بارہ سوالات کا ابھی تک جواب نہیں ملا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی اہل شہری کو حقِ رائے دہی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ پریانک کھرگے نے یہ بھی کہا کہ رام نگر میں شادی ہال میں جاری ایس آئی آر مشق کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے ۔اور وہاں کاروائی حکومت کے بجائے الیکشن کمیشن ہی انجام دے رہا ہے۔