• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • مشکل میں ممتا: باغی گروپ کا کولکا تا دفتر پرقبضہ، بنگال ٹی ایم سی ریاستی صدرمستعفی

مشکل میں ممتا: باغی گروپ کا کولکا تا دفتر پرقبضہ، بنگال ٹی ایم سی ریاستی صدرمستعفی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 04, 2026 IST

مشکل میں ممتا: باغی گروپ کا کولکا تا دفتر پرقبضہ، بنگال ٹی ایم سی ریاستی صدرمستعفی
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی، کی مشکلات میں اضافہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد مسائل ہر دن بڑھ رہےہیں۔ ممتا دی دی کو ایک اورجھٹکا لگا ہے۔ ممتا کی قریبی ساتھی اور مغربی بنگال ٹی ایم سی کی صدر چندریما بھٹاچاریہ نے ٹی ایم سی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے ہفتہ کو پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اب سے پارٹی سے مکمل طور پر دور رہیں گی۔ پارٹی کی ریاستی صدر کا استعفیٰ اس پارٹی کے لیے بہت بڑا جھٹکا ہے۔ اس سے پہلے اراکین اسمبلی اور پارلیمنٹ  کی بڑی تعداد نے بھی ممتا بنرجی کا ساتھ چھوڑا ہے۔ جمعہ کی رات باغی دھڑے نے کولکاتا میں پارٹی کے آپریشنل ہیڈکوارٹرپربھی قبضہ کرلیا۔

 اعتماد میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے دیا استعفیٰ

 ممتا بنرجی کی طرف سے باغی گروپ کے ذریعہ پارٹی ہیڈکوارٹر پر قبضے کے بارے میں پوچھ گچھ کے بعد اعتماد میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے بھٹاچاریہ نے استعفیٰ دے دیا۔بھٹاچاریہ نے کہا۔"جمعہ کے اس واقعے کے بعد، ممتا بنرجی نے سوال کیا کہ میں پارٹی کا دفتر باغی کیمپ کے حوالے کیسے کر سکتی ہوں؟ میں اس سوال سے بہت افسردہ تھی، میں نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ وہ ایسا کیسے سوچ سکتی ہیں، اس کے بعد، میں نے محسوس کیا کہ جب میری دیانت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، تو میرے لیے پارٹی کے اعلیٰ عہدے پر رہنا درست نہیں ہوگا۔  میں نے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے، دوبارہ کالی گھاٹ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، "

 پارٹی کی دیگر ذمہ داریوں سے بھی دیا استعفیٰ

بھٹاچاریہ، جنہوں نے ممتا کی قیادت والی پچھلی حکومت میں وزیر مملکت برائے خزانہ (آزادانہ چارج) کے طور پر خدمات انجام دیں، نے ممتا کو لکھے گئے خط کے ذریعے اپنے استعفیٰ سے آگاہ کیا۔ ریاستی صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے علاوہ، اس نے پارٹی کی دیگر تمام ذمہ داریوں سے بھی استعفیٰ دے دیا اور آل انڈیا ترنمول کانگریس اور اس سے منسلک تنظیموں کے ایک مجاز دستخط کنندہ کے طور پر اپنے اختیار سے دستبردار ہو گئے۔

ممتا سے ملاقات کےبعد کیا فیصلہ 

چندریما نے اپنے مکتوب استعفی  میں کہا کہ وہ ٹی ایم سی کے تمام عہدوں سے استعفی دے رہی ہیں اور انہوں نے یہ فیصلہ کالی گھاٹ میں ممتا سے ملاقات کے بعد لیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ٹی ایم سی کے مختلف بینک کھاتوں سے متعلق ذمہ داریوں سے دستبردار ہو رہی ہیں اور ان سے اپنے دستخط بھی ہٹا رہی ہے۔ اس کے بعد، پارٹی کی سرگرمیوں سے متعلق لین دین میں ان کے دستخط درست نہیں ہوں گے۔ چندریما نے الیکشن کمیشن سے پارٹی سے متعلق معاملات میں ان کا نام نہ لینے اور ممتا کی جانب سے ان سے رابطہ نہ کرنے کی درخواست بھی کی۔ ت

استعفی پر ٹی ایم سی کا کوئی رد عمل نہیں

دوسری طرف ٹی ایم سی نے چندریما کے استعفیٰ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ کئی اہم لیڈر پہلے ہی ٹی ایم سی سے استعفی دے چکے ہیں۔ دوسری طرف کئی ایم پیز اور ایم ایل ایز نے پارٹی میں بغاوت کردی ہے۔ رتبرتا بنرجی ٹی ایم سی کے باغی ایم ایل ایز کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہیں ٹی ایم سی کی جانب سے اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تسلیم کیا گیا ہے۔ بغاوت کا معاملہ اس وقت الیکشن کمیشن کی جانچ پڑتال میں ہے۔ الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی کے دھڑے اور رتبرتا دھڑے کو نوٹس جاری کیا ہے۔ الیکشن کمیشن ان کے جواب کے بعد فیصلہ کرے گا۔ ارکان پارلیمنٹ  کی بڑی تعداد نے بھی  ٹی ایم سی  سے اپنا راستہ الگ کر لیا ہے۔ خود کو ایک غیر معروف پارٹی میں ضم کردیا ہے۔

ٹی ایم سی کی لڑائی سڑکوں پر آگئی: پارٹی دفتر پر قبضہ

 مغربی بنگال میں  سابق حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کے اندر جاری اندرونی سیاسی  لڑائی  اب سڑکوں پر آ گئی ہے اور جمعہ کی رات اس نے ایک انتہائی ہنگامہ خیز موڑ لے لیا۔ اپوزیشن لیڈر رےتابرتا بنرجی کی قیادت میں ٹی ایم سی کے ایک طاقتور باغی دھڑے نے کلکتہ میں پارٹی کے آپریشنل ہیڈکوارٹر (تنظیمی دفتر) پر دھاوا بول کر اس پر مکمل قبضہ کر لیا ہے۔ یہ چونکا دینے والی پیشرفت اس کے ٹھیک ایک دن بعد سامنے آئی ہے جب ر یتابرتا بنرجی نے الیکشن کمیشن آف انڈیاکے سامنے ترنمول کانگریس کے نام اور پارٹی نشان پر اپنا سرکاری دعویٰ پیش کیا تھا۔

ہمارا دفتر، ہماری ذمہ داری 

باغی لیڈر سندیپن ساہا نے میڈیا سے کہا کہ"یہ ہمارا دفتر ہے اور اب یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ پارٹی کی تمام مستقبل کی سرگرمیاں اور فیصلے اسی ہیڈکوارٹر سے ہوں گے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی عبرتناک شکست کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ حقیقی ترنمول کانگریس کمان سنبھالے۔" 

ممتا بنرجی گروپ نے لگایا انتظامیہ پرسنگین الزام 

ٹی ایم سی ہیڈکوارٹر پر اس اچانک قبضے اور تالا بندی کے بعد ممتا بنرجی گروپ کے لیڈر کنال گھوش کا غصہ پھوٹ پڑا۔ انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کے کردار پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ"ہم نے ان لوگوں کے خلاف پولیس میں باضابطہ شکایت درج کرائی ہے جنہوں نے آج ترنمول بھون میں زبردستی گھس کر تالا لگا دیا۔ پارٹی سے نکالے گئے غداروں کو اس دفتر میں پیر رکھنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔ ہم چاہتے تو ایک سیکنڈ میں تالا توڑ سکتے تھے، لیکن ہم نے قانون ہاتھ میں نہیں لیا۔