بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس وقت دو بڑے دعوے زیرِ بحث ہیں۔ ایک دعویٰ ایران کے اعلیٰ رہنماؤں سے متعلق ہے، جبکہ دوسرا پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان دعووں میں حقیقت کتنی ہے اور قیاس آرائیاں کتنی؟
سب سے پہلے ایران کی بات کرتے ہیں۔ امریکی اخبارات کے رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ اسرائیل ایران کے بعض اہم رہنماؤں، جن میں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف شامل تھے، کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انہی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ نے ایک تیسرے ملک کے ذریعے ایران کو ممکنہ خطرے سے متعلق خبردار کیا تھا۔
ان رپورٹس پر نہ تو امریکہ نے مکمل تفصیلات جاری کیں اور نہ ہی اسرائیل نے ان الزامات کی تصدیق کی۔ اس لیے یہ اطلاعات میڈیا رپورٹس کی حد تک موجود ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب پاکستان سے متعلق دعویٰ برازیل کے صحافی پیپے اسکوبار نے اپنے ایک پوڈ کاسٹ میں کیا۔ ان کے مطابق مبینہ طور پر جنرل عاصم منیر اور پاکستانی وفد کو سوئٹزرلینڈ کے دورے کے دوران نشانہ بنانے کا منصوبہ تھا، لیکن پاکستانی انٹیلیجنس نے اسے ناکام بنا دیا۔
تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی سرکاری دستاویز، آزاد تحقیق یا معتبر بین الاقوامی رپورٹ موجود نہیں ہے۔ پاکستانی حکام اور متعدد دفاعی تجزیہ کار اس دعوے کو بے بنیاد اور غیر مصدقہ قرار دے چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
بین الاقوامی سیاست میں خفیہ آپریشنز اور انٹیلیجنس سرگرمیوں سے متعلق خبریں اکثر سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن ایسے معاملات میں صرف ایک ذریعے پر انحصار کرنا درست نہیں سمجھا جاتا۔ جب تک متعدد معتبر ذرائع یا سرکاری شواہد کسی دعوے کی تصدیق نہ کریں، اسے حقیقت کے طور پر پیش کرنا صحافتی اصولوں کے مطابق مناسب نہیں۔
اس لیے موجودہ صورتحال میں ایران سے متعلق بعض اطلاعات معتبر میڈیا رپورٹس پر مبنی ضرور ہیں، مگر ان کی بھی مکمل سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ پاکستان اور جنرل عاصم منیر سے متعلق دعوے اب تک غیر مصدقہ ہیں اور ان کے حق میں کوئی قابل اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا۔