قومی دارالحکومت دہلی ایک بار پھر شدید اسموگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ جس کے باعث فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ایمس اور اس کے اطراف کے علاقوں میں دھند اور دھوئیں کی موٹی تہہ دیکھی گئی۔ جس سے حدِ نگاہ کافی کم ہو گئی۔اسموگ کے باعث شہریوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے، خاص طور پر بزرگوں، بچوں اور مریضوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی رفتار متاثر رہی جبکہ ٹریفک پولیس نے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر موسم میں بہتری نہ آئی تو آنے والے دنوں میں آلودگی کی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
گھنی دھند نے پروازوں کے شیڈول کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ IndiGo ایئر لائن نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہونے سے پہلے اپنی فلائٹ کی حالت چیک کریں۔ گوہاٹی اور شمالی ہندوستان میں دیگر راستوں کے لیے پروازیں تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں۔ ایئر انڈیا نے کم مرئی ہونے کی وجہ سے ممکنہ پرواز میں تاخیر کے بارے میں انتباہ بھی جاری کیا ہے۔ ایئر انڈیا نے مسافروں کی مدد کے لیے 'فوگ کیئر' پہل شروع کی ہے، جس کے تحت مسافر بغیر کسی اضافی چارجز کے اپنی پروازوں کو ری شیڈول کر سکتے ہیں۔ بدھ کو دہلی ہوائی اڈے پر کم بصارت کی وجہ سے 140 سے زیادہ پروازیں منسوخ یا متاثر ہوئیں، اور آج بھی صورتحال وہی ہے۔
وہیں انڈیا گیٹ کے قریب سی آر پی ایف کی پریڈ کی ریہرسل کی گئی۔ یوم جمہوریہ کی تیاریوں کے تحت جوانوں نے مکمل نظم و ضبط اور جوش و جذبے کے ساتھ مارچ پاسٹ کی مشق کی۔ریہرسل کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ بڑی تعداد میں اہلکار موقع پر تعینات رہے۔ انڈیا گیٹ کے اطراف سے گزرنے والے شہریوں نے بھی اس شاندار مشق کو دلچسپی سے دیکھا۔ یہ ریہرسل آنے والی قومی تقریب کے لیے تیاریوں کا اہم حصہ ہے، جس میں ملک کی طاقت اور اتحاد کی جھلک دکھائی جائے گی۔
سال 2026 کے پہلے ہی دن دہلی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش نے موسم کا مزاج بدل دیا۔ تلک نگر سمیت کئی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی، جس سے سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا اور ٹریفک کی رفتار سست پڑ گئی۔بارش کے باعث سردی میں اضافہ ہوا اور لوگ گرم کپڑوں میں لپٹے نظر آئے۔ تلک نگر کے مناظر میں سڑکوں پر پانی، چھتریوں کے سائے اور گاڑیوں کی قطاریں دیکھی گئیں۔ محکمہ موسمیات نے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔