سال 2020 کے دہلی فسادات میں سازش کردہ کے الزام میں کئی افراد کو گرفتار کیا گیا تھا،فسادات میں 53 افراد کی موت ہوئی تھی، جبکہ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔اس کے بعد دہلی پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیوں نے کئی افراد کو گرفتار کیا۔ تاہم، یہ گرفتاریاں ہمیشہ شک کے دائرے میں رہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ کئی مقدمات میں یہ سوال اٹھتا رہا کہ کیا تمام ملزمان واقعی مجرم تھے یا کچھ بے گناہ بھی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے۔
اب اس فساد سے متعلق ایک مقدمے میں عدالت نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے ثبوتوں کی کمزوری کو اجاگر کر دیا ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد تفتیشی ایجنسیوں کی کردار پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
کڑکڑ ڈومہ کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے دیال پور تھانے میں درج ایف آئی آر سے متعلق مقدمے میں 9 ملزمان کو بری کر دیا۔ ان میں عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلرطاہر حسین کے بھائی شاہ عالم بھی شامل ہیں۔ دیگر ملزمان میں راشد سیفی، محمد شاداب، حبیب، عرفان، سہیل، سلیم، ارشاد اور اظہر کے نام شامل ہیں۔
لائیو لا کے مطابق:
ان سب پر شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران تشدد، توڑ پھوڑ اور آگ لگانے جیسے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔ الزامات میں کار پر حملہ کر کے اس میں بیٹھے لوگوں کو زخمی کرنا، ایک پولیس افسر کی موٹر سائیکل جلانا، سڑک کنارے ٹھیلہ والوں کے ٹھیلے لوٹنے اور توڑنے، ایک ای رکشہ میں توڑ پھوڑ اور چوری کرنے، اور رائل موٹرز نامی دکان میں آگ لگانے جیسے سنگین الزامات شامل تھے۔
تاہم، عدالت نے سماعت کے دوران پایا کہ استغاثہ کا پورا کیس کئی اہم نکات پر کمزور پڑ گیا۔ جج نے کہا کہ گواہوں کی گواہی عام اور مبہم تھی، جس میں کوئی ٹھوس یا مخصوص معلومات نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ، گواہوں نے واقعے کی جگہ اور تاریخ کے بارے میں بھی غلط بیانات دیے۔
عدالت نے خاص طور پر تین گواہوں کی گواہی پر سوال اٹھائے۔ ان گواہوں کے ذریعے ملزمان کی بھیڑ میں موجودگی اور ان کی کردار ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن ان کی باتوں میں تضاد پایا گیا۔مثال کے طور پر، رائل موٹرز میں آگ لگانے کا واقعہ 25 فروری 2020 کو پیش آیا تھا، جبکہ استغاثہ اسے 24 فروری بتا رہا تھا۔ اس لیے عدالت نے کہا کہ گواہ اس دن واقعہ دیکھ ہی نہیں سکتے تھے۔
جج پروین سنگھ نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ ان گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر ملزمان کو مجرم ٹھہرانا مناسب نہیں ہے۔ اس لیے تمام ملزمان کو "شک کا فائدہ" دیتے ہوئے بری کیا جاتا ہے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ استغاثہ کا کیس کئی اہم پہلوؤں پر مکمل طور پر بکھر جاتا ہے، جس سے الزامات ثابت نہیں ہو سکے۔
قابل ذکر ہے کہ شاہ عالم کو 2020 کے ایک اور فساد کے مقدمے میں بھی بری کیا جا چکا ہے۔ اس وقت جج وینود یادو نے دہلی پولیس کو فٹکار لگاتے ہوئے کہا تھا کہ بغیر ٹھوس ثبوت جمع کیے اور حقیقی ملزمان کی شناخت کیے بغیر ہی چارج شیٹ دائر کر دی گئی۔