دہلی کی راؤس ایونیو کورٹ نے دہلی حکومت کے وزیر قانون کپل مشرا کے خلاف دہلی فسادات میں ملوث ہونے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ویبھو چورسیہ نے یہ حکم دیا ہے۔ اس سے قبل ککڑڈوما کورٹ نے بھی کپل مشرا کے معاملے میں لاپرواہی برتنے پر جیوتی نگر پولس اسٹیشن کے ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔راؤس ایونیو کورٹ نے کہا ہے کہ کپل مشرا کے خلاف قابل اعتراض الزامات ہیں اور اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
عدالت نے دہلی پولیس کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ اس سے قبل ککڑڈوما کورٹ نے کہا تھا کہ یا تو تفتیشی افسر نے کپل مشرا کے خلاف کوئی تفتیش نہیں کی یا پھر اس نے کپل مشرا کے خلاف الزامات کو چھپانے کی کوشش کی۔ عدالت نے کہا کہ کپل مشرا ایک عوامی شخصیت ہیں اور ان کے بارے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ایسے لوگ عوام کی رائے پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ عوامی زندگی گزارنے والے شخص سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ آئین کے دائرے میں رہے۔
ککڑڈوما کورٹ نے مزید کہا کہ اس قسم کے بیانات کا فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر برا اثر پڑتا ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف غیر جمہوری ہیں بلکہ ملک کے سیکولر اصولوں پر بھی حملہ ہیں۔ ایسے بیانات آئین کے بنیادی کردار کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ فرقہ وارانہ اور مذہبی ہم آہنگی سے متعلق تعزیرات ہند کی دفعہ 153A سے متعلق ہے۔ اس کا تعلق ملک کے ہر شہری کی ذمہ داری سے بھی ہے۔ جس طرح ملزم کو اظہار رائے کی آزادی سے لطف اندوز ہونے کا حق ہے، اسی طرح اس کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھے۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے، اس سلسلے میں بی جے پی لیڈر کپل مشرا کے کردار کی تحقیقات کے لیے عرضی دائر کی گئی تھی۔ اس عرضی میں فسادات کے دوران کپل مشرا کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ 24 فروری 2020 کو دہلی میں ہونے والے اس ہنگامے کے دوران کئی لوگ مارے گئے تھے، جب کہ کئی لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ کپل مشرا نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں کراول نگر اسمبلی سیٹ سے بی جے پی امیدوار کے طور پر شاندار جیت حاصل کی ہے۔ یہ شکایت محمد وسیم نے مجسٹریٹ کورٹ میں دائر کی تھی۔
کپل مشرا پر کیا الزامات ہیں؟
کپل کی ایک ویڈیو 23 فروری 2020 کو ٹویٹر پر منظر عام پر آئی، جس میں وہ موج پور ٹریفک سگنل کے قریب تقریر کرتے نظر آ رہے ہیں۔مشرا ڈی سی پی (نارتھ ایسٹ) کے قریب کھڑے تھے اور جعفرآباد میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین کو نشانہ بنایا ۔انہوں نے پولیس کو 3 دن میں سڑکیں خالی کرنے کا ’’الٹی میٹم‘‘ دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ خود سڑکوں پر نکلیں گے اور کوئی انہیں روک نہیں سکے گا۔