ملک میں گائے کے نام پر ہونے والے ہجومی تشدد، نفرت کی سیاست اور بے گناہ افراد کی ہلاکتوں کے درمیان گائے کو’’قومی جانور‘‘ قرار دینے کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑنے لگا ہے۔ اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ملک کی اکثریتی آبادی گائے کو نہ صرف مقدس مانتی ہے بلکہ اسے ماں کا درجہ بھی دیتی ہے، ایسے میں حکومت کی جانب سے اب تک گائے کو قومی جانور کا درجہ نہ دینا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
مختلف سماجی اور مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر گائے کو باضابطہ طور پر قومی جانور قرار دے دیا جائے اور اس سے متعلق یکساں قانون پورے ملک میں نافذ کیا جائے تو گائے کے نام پر ہونے والی سیاست اور ہجومی تشدد کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سے نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ ہوگا بلکہ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے کی سیاست پر بھی روک لگے گی۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بدھ کو کہا کہ گائے کو 'قومی جانور' قرار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر اور اقلیتی برادری پر حملوں کی اصل وجہ اس مقدس جانور کے گرد تفرقہ انگیز سیاست ہے۔ نفرت کی سیاست اور بڑھتے ہوئے موب لنچنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مدنی کا خیال تھا کہ گائے کو 'قومی جانور' قرار دینے سے اس مسئلے کا مستقل حل ملے گا۔ اس حد تک، اس نے 'X' پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا۔
مولانا ارشد مدنی نے سوال کیا کہ مرکزی حکومت کو گائے کو قومی جانور قرار دینے سے کون روک رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ملک کی اکثریت گائے کو نہ صرف مقدس جانور بلکہ ماں بھی مانتی ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ گائے کے نام پر سیاسی کھیل کم از کم اب ختم ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر سیاست کی وجہ سے کسی کی جان نہیں جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مذہبی تقسیم اور نفرت کی سیاست کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔
مولانا مدنی نے یاد دلایا کہ گائے کے گوشت کے حوالے سے مختلف ریاستوں میں مختلف قوانین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی منافرت پر مبنی حملوں کو عقیدت نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ سیاسی سازشیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گائے کو قومی جانور قرار دینے سے مذہبی منافرت کے مسئلے کا مستقل حل نکل آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے تمام ریاستوں میں یکساں قانون ہونا چاہیے۔
بیان میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ ملک کی کئی ریاستوں میں کھلے عام گائے کا گوشت فروخت اور استعمال کیا جاتا ہے، لیکن وہاں نہ کوئی احتجاج دیکھنے کو ملتا ہے اور نہ ہی ہجومی تشدد کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ جبکہ بعض علاقوں میں، خاص طور پر جہاں مسلم آبادی زیادہ ہے، گائے کے نام پر تشدد اور قتل کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ مذہبی عقیدت نہیں بلکہ دوہرا معیار اور سیاسی مفاد کا معاملہ ہے۔
اسی تناظر میں یکساں سول کوڈ (UCC) پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر ملک ایک ہے تو قوانین بھی یکساں ہونے چاہئیں، لیکن جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق قوانین مختلف ریاستوں میں الگ الگ ہیں۔ کئی ایسی ریاستیں ہیں جہاں گائے کا گوشت قانونی طور پر دستیاب ہے، حتیٰ کہ بعض مرکزی وزراء بھی عوامی طور پر بیف کھانے کا اعتراف کرچکے ہیں۔
اس بات پر حیرت ظاہر کی گئی کہ جن ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتیں قائم ہیں، وہاں بھی بیف پر مکمل پابندی نہیں ہے، جبکہ گائے کے نام پر ہجومی تشدد کرنے والے عناصر اس معاملے پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر حکومت واقعی اس مسئلے کا مستقل حل چاہتی ہے تو گائے کو قومی جانور قرار دے کر ایک واضح اور غیر امتیازی قانون بنایا جائے، جسے پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے تاکہ انصاف اور برابری کو یقینی بنایا جاسکے۔