Wednesday, March 04, 2026 | 14 رمضان 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • دانتوں کی صحت: غلط فہمیاں اور حقیقت

دانتوں کی صحت: غلط فہمیاں اور حقیقت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Mar 04, 2026 IST

دانتوں کی صحت: غلط فہمیاں اور حقیقت
منصف ٹی وی کے مشہور پروگرام 'ہیلتھ اور ہم' میں ڈاکٹر توصیف احمد (ڈینٹل سرجن) نے اہم نکات پرمبنی دانتوں کی صحت اور اس سے جڑی غلط فہمیوں کی وضاحت کی۔

درد نہیں تو دانت ٹھیک ہونے کا تصورغلط

انسانی جسم میں دانتوں کی اہمیت مسلم ہے، مگر اکثر لوگ اسے اس وقت تک نظر انداز کرتے ہیں جب تک درد ناقابل برداشت نہ ہو جائے۔ ڈاکٹر توصیف کے مطابق، یہ تصور غلط ہے کہ "درد نہیں تو دانت ٹھیک ہے"۔ دانتوں کی بیماریاں خاموشی سے جڑ پکڑتی ہیں اور جب درد شروع ہوتا ہے تو معاملہ کافی پیچیدہ ہو چکا ہوتا ہے۔

عام غلط فہمیاں اور ان کا ازالہ

سخت برش کا استعمال: یہ ایک عام خیال ہے کہ زور سے یا سخت برش کرنے سے دانت زیادہ صاف ہوتے ہیں۔ حقیقت میں، سخت برش دانتوں کی بیرونی تہہ (Enamel) کو نقصان پہنچاتا ہے اور مسوڑھوں کو کمزور کر دیتا ہے۔ ہمیشہ نرم (Soft) برش کا استعمال ہلکے ہاتھ سے کریں۔
دانتوں کا پیلا پن: ہر سفید نظر آنے والا دانت صحت مند اور ہر پیلا نظر آنے والا دانت خراب نہیں ہوتا۔ دانتوں کی قدرتی رنگت پیدائشی بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم، دانتوں کے درمیان چھپی ہوئی کیویٹی صرف ایکسرے کے ذریعے ہی دیکھی جا سکتی ہے۔
گھریلو نسخے بمقابلہ ٹوتھ پیسٹ: کوئلہ، نمک یا ریت کا استعمال دانتوں کو رگڑ کر انہیں کمزور کر دیتا ہے۔ جدید ٹوتھ پیسٹ دانتوں کو ضروری معدنیات فراہم کرنے کے لیے تحقیق کے بعد تیار کیے جاتے ہیں۔

رمضان اور دانتوں کی حفاظت

رمضان المبارک میں منہ کی خشکی کی وجہ سے سانس میں بو پیدا ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر توصیف نے مشورہ دیا کہ:
1. سحری اور افطاری کے بعد دانتوں کی صفائی کو یقینی بنائیں۔
2. مسواک کا استعمال سنت بھی ہے اور دانتوں کی صحت کے لیے بہترین بھی۔
3. صرف دانت ہی نہیں بلکہ زبان کی صفائی بھی بہت ضروری ہے، کیونکہ جراثیم کی بڑی تعداد زبان پر موجود ہوتی ہے۔

بچوں کی دیکھ بھال: دودھ کے دانتوں کی اہمیت

والدین اکثر دودھ کے دانتوں کو عارضی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق، دودھ کے دانت گرنے والے ضرور ہوتے ہیں لیکن یہ مستقل دانتوں کے لیے جگہ بناتے ہیں اور بچے کی بول چال (Speech) میں مدد دیتے ہیں۔ بچوں کو رات کو دودھ کی بوتل منہ میں دے کر سلانا دانتوں میں سڑن پیدا کرتا ہے۔

جدید علاج اور طریقہ کار

آج کل ڈینٹل علاج (جیسے روٹ کینال یا فلنگ) بہت سہل اور تکلیف کے بغیر ہو چکا ہے۔ اسکیلنگ (دانتوں کی صفائی) کے بارے میں یہ ڈر کہ اس سے دانت ہلنے لگتے ہیں، بالکل بے بنیاد ہے۔ اسکیلنگ سے مسوڑھوں کے گرد جما ہوا گندا مادہ (Tartar) صاف ہوتا ہے جس سے مسوڑھے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔

دانتوں کی صحت  جسمانی صحت کی آئینہ دار 

دانتوں کی صحت مجموعی جسمانی صحت کی آئینہ دار ہے۔ ہر چھ ماہ بعد ڈینٹل چیک اپ کو اپنا معمول بنائیں۔ یاد رکھیں، علاج سے کہیں بہتر اور سستا راستہ 'احتیاط' ہے۔ قارئین ڈاکٹر توصیف کی مکمل بات چیت  آپ یہاں دیکھ سکتےہیں۔