Thursday, January 29, 2026 | 10, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • شوگراور ہائپرٹینشن: خاموش بیماریاں،بروقت مینجمنٹ بے حد ضروری

شوگراور ہائپرٹینشن: خاموش بیماریاں،بروقت مینجمنٹ بے حد ضروری

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 29, 2026 IST

شوگراور ہائپرٹینشن: خاموش بیماریاں،بروقت مینجمنٹ بے حد ضروری
آج کی تیز رفتار اور مصروف زندگی میں طرزِ زندگی سے جڑی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جن میں ذیابیطس (شوگر) اور ہائپرٹینشن (بلند فشارِ خون) بی پی سرِفہرست ہیں۔ یہ دونوں بیماریاں اکثر بغیر کسی واضح علامات کے جسم کو اندر ہی اندر نقصان پہنچاتی رہتی ہیں، اسی لیے انہیں خاموش بیماریاں کہا جاتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق بروقت تشخیص اور درست مینجمنٹ کے ذریعے ان بیماریوں کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے اور سنگین پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ منصف ٹی وی  کے مقبول عام پروگرام  ہیلتھ اور ہم میں کیئر ہاسپٹل، مشیرآباد حیدرآباد کے سینئر کنسلٹنٹ جنرل فزیشن ڈاکٹر کے ایس معین الدین  نے اہم جانکاری  دی۔
 
کیئر ہاسپٹل، مشیرآباد حیدرآباد کے سینئر کنسلٹنٹ جنرل فزیشن ڈاکٹر کے ایس معین الدین کے مطابق ذیابیطس دراصل ایک میٹابولک بیماری ہے، جس کی دو اقسام ہوتی ہیں—ٹائپ 1 اور ٹائپ 2۔ ٹائپ 1 ذیابیطس عموماً انسولین کی شدید کمی یا لبلبے کے بیٹا سیلز کے متاثر ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے، جبکہ ٹائپ 2 ذیابیطس زیادہ تر غیر متوازن طرزِ زندگی، موٹاپے، خاندانی تاریخ اور جسمانی سرگرمی کی کمی کے باعث لاحق ہوتی ہے۔
 
ڈاکٹر معین  الدین کا کہنا ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں جسم میں انسولین موجود ہوتی ہے، لیکن انسولین ریزسٹنس کی وجہ سے وہ مؤثر طریقے سے کام نہیں کر پاتی، جس کے نتیجے میں خون میں شوگر کی مقدار بڑھتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مریض برسوں تک اس بیماری سے لاعلم رہتے ہیں، لیکن اس دوران گردے، آنکھیں، اعصاب اور دل متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
 
اسی طرح ہائپرٹینشن بھی ایک خاموش بیماری ہے۔ اگر بلڈ پریشر مسلسل 140/90 ملی میٹر مرکری سے زیادہ رہے تو یہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مسلسل بلند فشارِ خون دل کے سائز میں اضافے، گردوں کے نقصان اور فالج یا دل کے دورے کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔ماہرین کے مطابق ذیابیطس اور ہائپرٹینشن سے بچاؤ اور کنٹرول کے لیے متوازن غذا، وقت پر کھانا، نمک اور چکنائی کا کم استعمال، اور باقاعدہ ورزش نہایت اہم ہے۔ ہفتے میں کم از کم پانچ دن 20 سے 30 منٹ کی چہل قدمی یا ہلکی پھلکی ورزش شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
 
ڈاکٹرمعین الدین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ادویات کو خود سے بند کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگر ڈاکٹر نے دوا تجویز کی ہے تو اسے باقاعدگی سے لینا ضروری ہے، کیونکہ ادویات کا اثر محدود وقت کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شوگر کے مریضوں کو وقتاً فوقتاً فاسٹنگ شوگر، پوسٹ شوگر، HbA1c، گردوں کے ٹیسٹ اور آنکھوں کا معائنہ ضرور کروانا چاہیے۔
 
آخر میں ماہرین صحت کا یہی مشورہ ہے کہ ذیابیطس اور ہائپرٹینشن کے مریض اگر احتیاطی تدابیر، درست علاج اور صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں تو وہ ایک عام اور فعال زندگی گزار سکتے ہیں۔ بروقت توجہ اور ذمہ داری ہی صحت مند مستقبل کی ضمانت ہے۔
 ڈاکٹر معین الدین سے بات چیت کی مکمل گفتگو آپ اس ویڈیو میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔