منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Diabetes & Kidney Damage: Are You at Risk?" کے اہم موضوع پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر کےجے۔ پریہ درشنی، کنسلٹنٹ نیفرولوجسٹ اینڈ رینل ٹرانسپلانٹ فزیشن، کامینینی ہاسپٹلس، عابڈز، حیدرآباد نے ذیابیطس اور گردوں کی صحت کے درمیان تعلق، گردوں کو ہونے والے نقصان کی ابتدائی علامات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر پریہ درشنی نے بتایا کہ ذیابیطس صرف خون میں شوگر کی سطح بڑھنے تک محدود نہیں رہتی۔ اگر طویل عرصے تک شوگر قابو میں نہ رہے تو جسم کے مختلف اعضاء متاثر ہو سکتے ہیں اور گردے بھی ان میں شامل ہیں۔ گردوں کا بنیادی کام خون کو صاف کرنا اور جسم سے فاضل مادوں اور اضافی پانی کو خارج کرنا ہے۔ مسلسل زیادہ شوگر گردوں کی باریک خون کی نالیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور وقت کے ساتھ ان کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ Diabetic Kidney Disease کی ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اکثر کوئی واضح علامت نہیں ہوتی۔ مریض خود کو بالکل ٹھیک محسوس کر سکتا ہے، جبکہ گردوں میں نقصان کا عمل شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ اسی لیے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے باقاعدہ طبی معائنہ انتہائی اہم ہے۔
گفتگو کے دوران ڈاکٹر نے بتایا کہ پیشاب میں پروٹین یا البیومِن کی موجودگی گردوں کے متاثر ہونے کی ابتدائی نشانیوں میں شامل ہو سکتی ہے۔ اسی طرح خون میں Creatinine کی سطح اور گردوں کی فلٹریشن کی شرح کو جانچنے سے بھی گردوں کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق یہ ٹیسٹ باقاعدگی سے کروانے چاہئیں۔
ڈاکٹر پریہ درشنی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف شوگر کو کنٹرول کرنا کافی نہیں، بلکہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو بھی قابو میں رکھنا ضروری ہے۔ ہائی بلڈ پریشر گردوں کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے، اس لیے دونوں بیماریوں کا مناسب علاج اور مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
بچاؤ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ذیابیطس کے مریض اپنی خوراک، جسمانی سرگرمی، وزن اور ادویات کے استعمال پر خاص توجہ دیں۔ نمک اور غیر ضروری چینی کی مقدار کم کرنا، متوازن غذا لینا، مناسب ورزش کرنا اور سگریٹ نوشی سے پرہیز مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے لی جائیں اور خود سے دوا بند یا تبدیل نہ کی جائے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی مریض کو پیروں یا چہرے پر غیر معمولی سوجن، پیشاب میں تبدیلی، غیر معمولی تھکن یا بلڈ پریشر میں مسلسل اضافہ محسوس ہو تو اسے طبی مشورہ لینا چاہیے۔ تاہم ایسی علامات کا انتظار کرنے کے بجائے ذیابیطس کے مریضوں میں باقاعدہ اسکریننگ زیادہ اہم ہے۔
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر کے. جے. پریہ درشنی نے کہا کہ ذیابیطس سے متعلق گردوں کی بیماری کو بروقت پہچان لیا جائے تو اس کی رفتار کو کم کرنے اور گردوں کو مزید نقصان سے بچانے کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق شوگر، بلڈ پریشر اور گردوں کی باقاعدہ جانچ کو ذیابیطس کے مریضوں کی معمول کی صحت کی دیکھ بھال کا حصہ بنانا چاہیے۔
ہیلتھ اور ہم کے ذریعے ناظرین کو یہ اہم پیغام دیا گیا کہ ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزارنے کا مطلب یہ نہیں کہ گردوں کو لازماً نقصان پہنچے گا۔ مناسب احتیاط، باقاعدہ چیک اپ اور بروقت علاج کے ذریعے گردوں کی صحت کو طویل عرصے تک بہتر رکھا جا سکتا ہے۔
قارئین ماہر نیفرولوجسٹ ڈاکٹر کے جے پریادرشینی کی انفیکشن پرکی مکمل گفتگو یہاں👇دیکھ سکتےہیں۔ اورہیلتھ سے جڑے کسی بھی موضوع پر، اہم ویڈیوزمنصف ٹی وی ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔