Thursday, September 03, 2026 | 19 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • پوتن اور زیلنسکی میں کشیدگی کے درمیان ٹرمپ کی نئی امن کوشش

پوتن اور زیلنسکی میں کشیدگی کے درمیان ٹرمپ کی نئی امن کوشش

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 03, 2026 IST

پوتن اور زیلنسکی میں کشیدگی کے درمیان ٹرمپ کی نئی امن کوشش
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ایک اور سربراہی ملاقات کے لیے تیار ہیں، ان کے مطابق یہ ملاقات اسی وقت ہونی چاہیے جب روس یوکرین کے ساتھ امن معاہدے کی جانب آگے بڑھنے کے لیے تیار ہو۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں اور کاروبار کے لیے بھی اچھے تعلقات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق پوتن کے ساتھ اگلی ملاقات کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی اور یہ مناسب وقت آنے پر ہوگی۔
 

پوتن کا مؤقف ٹرمپ کی امید سے مختلف نظر آ رہا ہے 

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے 2 ستمبر کو کہا کہ یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات فی الحال کسی حد تک منجمد ہیں۔ انہوں نے یوکرین کو "ریاستی دہشت گردی" سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ماسکو ایسے فریق سے مذاکرات نہیں کرتا جسے وہ دہشت گرد سمجھتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوری طور پر ٹرمپ اور پوتن کی نئی براہِ راست سربراہی ملاقات کے امکانات واضح نہیں ہیں۔
 

ٹرمپ نے بائیڈن پر پھر تنقید کر دی

ٹرمپ نے اپنے پیشرو جو بائیڈن پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر وہ 2020 کے صدارتی انتخابات کے بعد دوبارہ اقتدار میں آ جاتے تو روس اور یوکرین کے درمیان جنگ شروع نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے پہلے دورِ صدارت، یعنی 2016 سے 2020 کے دوران، ان کی پوتن سے متعدد بات چیت ہوتی رہی اور اس وقت انہیں جنگ شروع ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا۔
 

پوتن اور زیلینسکی کے درمیان کشیدگی

ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرینی صدرزیلینسکی کے درمیان شدید دشمنی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان موجود کشیدگی امن کی کوششوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
 

ٹرمپ اور پوتن کی گزشتہ ملاقات

ٹرمپ اور پوتن کی آخری سربراہی ملاقات گزشتہ سال اگست میں الاسکا میں ہوئی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے اس ملاقات کو مثبت قرار دیا تھا۔ ملاقات کے دوران پوتن نے ٹرمپ کو ماسکو آنے کی دعوت بھی دی تھی، اس کے بعد دونوں کی کوئی مزید براہِ راست ملاقات نہیں ہوئی۔
 

یوکرین جنگ بدستور جاری

دوسری جانب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بدستور جاری ہے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یوکرینی صدر زیلینسکی مسلسل اپنے یورپی اتحادیوں سے مزید مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔
 

نیٹو ممالک سے متعلق خدشات

حالیہ دنوں میں ایسی قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی تھیں کہ روس نیٹو کے کسی رکن ملک کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ٹرمپ اور روسی حکام نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط قرار دیا ہے۔
 
ایک اور اہم پیش رفت یہ ہے کہ امریکی سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے حال ہی میں ماسکو کا خفیہ دورہ کیا تھا۔ انہوں نے ٹرمپ، پوتن اور یوکرینی صد زیلینسکی کے درمیان ایک اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس کی تجویز پر بات کی تھی، جس کا مقصد امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا تھا۔
 
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بدستور جاری ہے اور پوتن کے تازہ بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ماسکو فوری طور پر کسی بڑے امن معاہدے کی طرف بڑھنے کے لیے تیار نہیں۔ رپوٹ کے مطابق پوتن نے روس کے یوکرین پر حملے جاری رکھنے کا عزم بھی دہرایا۔