2007 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کے دوران ایک طالب علم کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل کے مقدمے میں عدالت نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج فاسٹ ٹریک کورٹ II، تارکیشوری سنگھ نے تین ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے ہر مجرم پر 20 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
دراصل، 8 اپریل 2007 کی رات کو اڈیشہ کے رہنے والے اے ایم یو کے طالب علم ملا محمد کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملا محمد یونیورسٹی کیمپس میں حبیب ہال کے سامنے ایک چائے کی دکان پر اپنے دوستوں کے ساتھ چائے پی رہے تھے۔اسی دوران اچانک فائرنگ ہوئی جس میں وہ شدید زحمی ہوگیا۔
فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔ ساتھی طلباء نے زخمی ملا محمد کو جے این میڈیکل کالج پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ قتل طلبہ یونین کے انتخابات سے متعلق دشمنی کا نتیجہ تھا۔
اس وقت اے ایم یو میں طلبہ کی سیاست عروج پر تھی اور مختلف گروہوں کے درمیان کشیدگی تھی۔ ملا محمد کے قتل کے بعد یونیورسٹی کیمپس میں شدید تناؤ پھیل گیا اور کئی دنوں تک ماحول انتہائی کشیدہ رہا۔
پولیس نے سول لائنز تھانے کے علاقے میں درج ایک نامزد ایف آئی آر کی بنیاد پر کیس کی تحقیقات کرنے کے بعد تین ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔ عدالت میں سماعت کے دوران متعدد گواہ پیش ہوئے۔
ٹریل کے دوران سرکاری وکیل کلدیپ کمار تومر نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ نے مضبوط شواہد اور آنکھوں دیکھی گواہی پیش کی۔ گواہوں کی گواہی، میڈیکل رپورٹ، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ ملزمان نے سوچ سمجھ کر یہ جرم کیا تھا۔
ای ٹی وی بھارت کی رپورٹس کے مطابق ،تمام ثبوتوں، شہادتوں اور برآمد شدہ پستول کی بنیاد پر عدالت نے اٹاوہ کے رہنے والے آصف نبی، علی گڑھ کے رہنے والے گیتم کشواہا اور عابد انصاری کو قتل کا مجرم قرار دیا۔ تینوں ملزمین کو مبینہ طور پر اس وقت اے ایم یو سے طلبہ کو نکال دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کو طلبہ کی سیاست سے متعلق تشدد کے مقدمات میں ایک اہم نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔ اس طویل انتظار کے فیصلے نے مقتول کے خاندان کو انصاف فراہم کیا ہے اور یہ پیغام بھی دیا ہے کہ انتخابی دشمنی اور تشدد کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔