ملک بھر میں 76ویں یوم جمہوریہ کی تیاریاں جاری ہیں۔اسکے ساتھ ہی ملک میں ایک نئے باب کا آغاز بھی ہونے جا رہا ہے،در اصل، جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ اسسٹنٹ کمانڈنٹ سمرن بالا ،دہلی میں یوم جمہوریہ کے موقع پر ہونے والی پریڈ میں تمام مرد دستے کی قیادت کریں گی۔ یہ پہلا موقع ہے جب ایک خاتون افسر یوم جمہوریہ پر کسی بڑے فوجی دستے کی قیادت کریں گی۔ اس کامیابی کو خواتین کو بااختیار بنانے کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
کون ہیں سمرن بلا؟
26 سالہ سمرن بالا، کا تعلق جموں و کشمیر کے راجوری ضلع کے نوشیرا سے ہے، وہ سی آر پی ایف میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔سمرن اس سال یوم جمہوریہ کی پریڈ میں سی آر پی ایف کے تمام مرد یونٹ کی قیادت کریں گی۔ یہ یونٹ 140 سے زیادہ مرد اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ سمرن راجوری ضلع سے سی آر پی ایف میں بطور افسر شامل ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔
2023 میں یو پی ایس سی پاس کر کے سی آر پی ایف میں شامل ہوئیں:
سی آر پی ایف میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ کے عہدے پر خدمات انجام دے رہی 26 سالہ سمرن بالا نے 2023 میں ہی اس فورس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے 2023 میں پہلی ہی کوشش میں یو پی ایس سی سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (کیپف) امتحان پاس کیا تھا۔ اس میں انہیں آل انڈیا رینک 82ویں حاصل ہوا۔ 2023 میں وہ جموں و کشمیر سے منتخب ہونے والی واحد خاتون امیدوار تھیں۔
سمرن کو مرد یونٹ کی کمان کیسے ملی؟
سمرن بالا،یوم جمہوریہ کی پریڈ میں سی آر پی ایف کے مرد یونٹ کی قیادت کر کے تاریخ رقم کرنے جا رہی ہیں۔ انہیں یہ ذمہ داری ایسے ہی نہیں سونپی گئی۔ اس کے پیچھے ان کی قابلیت کا مضبوط بنیاد ہے۔ اصل میں،سمرن کو یوم جمہوریہ کی پریڈ ریہرسل میں اس کی شاندار کارکردگی کے بعد آل مرد یونٹ کی قیادت کرنے کی ذمہ داری دی گئی،حکام کے مطابق ڈرل کے دوران اس کا اعتماد، درستگی اور کمان غیر معمولی تھی۔ اسی وجہ سے انہیں 26 جنوری کو سی آر پی ایف یونٹ کی قیادت کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔
سمرن کی یہ کامیابی ،نہ صرف جموں وکشمیر جیسے حساس خطے سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے لمحہ فخر ہے ،بلکہ ملک بھر کی خواتین کے لیے یہ ایک پیغام ہےکہ ،صلاحیت و قابلیت کبھی جنسی یا میرٹ کا محتاج نہیں۔
یوم جمہوریہ کی پریڈ میں سمرن بالا کی اس ذمہ داری کو بے مثال سمجھا جا رہا ہے۔ اپنی وسیع آپریشنل صلاحیت اور عظمت کے لیے مشہور سی آر پی ایف کی پریڈ میں اب تک روایتی طور پر صرف مرد افسر ہی قیادت کرتے آئے ہیں۔ دستہ کمانڈر کے طور پر ان کی تقرری ادارہ جاتی تبدیلی کی علامت تو ہے ہی، یہ تبدیلی ملک میں مسلح افواج میں صنفی مساوات کا پیغام بھی ہے۔