منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" کے تازہ ترین ایپی سوڈ میں منہ کے کینسر(اورل کینسر) جیسے سنگین مرض پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پروگرام میں علیس ڈینٹسٹری ڈینٹل کلینک کی کاسمیٹک ڈینٹل سرجن ڈاکٹر ثمینہ علی نے بطور ماہر شرکت کی اور اس بیماری کی وجوہات، علامات، تشخیص، علاج اور بچاؤ کے مؤثر طریقوں پرجامع معلومات فراہم کیں۔
ڈاکٹر ثمینہ علی نے بتایا کہ اورل کینسر صرف زبان تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ ہونٹوں، مسوڑھوں، گالوں کی اندرونی جھلی، منہ کی چھت، منہ کے نچلے حصے اور گلے کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں منہ کے کینسر کے مریضوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے، جس کی بڑی وجوہات تمباکو، گٹکا، پان مسالہ، سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور منہ کی صفائی کا فقدان ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ صرف تمباکو استعمال کرنے والے افراد ہی نہیں بلکہ ایسے لوگ بھی اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں جنہوں نے کبھی سگریٹ یا تمباکو استعمال نہیں کیا۔ بعض اوقات ہیومن پیپیلوما وائرس(HPV) کا انفیکشن، موروثی عوامل، کمزور قوتِ مدافعت اور دیگر طبی وجوہات بھی منہ کے کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔
پروگرام کے دوران ڈاکٹر ثمینہ علی نے منہ کے کینسر کی ابتدائی علامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر منہ کا کوئی زخم یا چھالا دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک برقرار رہے، سفید یا سرخ دھبے نمودار ہوں، منہ سے خون آئے، چبانے یا نگلنے میں دشواری ہو، آواز میں تبدیلی محسوس ہو یا گردن میں گلٹی بن جائے تو فوری طور پر ماہر ڈاکٹر یا ڈینٹسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق بروقت تشخیص سے علاج کے کامیاب ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ باقاعدہ ڈینٹل چیک اپ کے ذریعے بیماری کو ابتدائی مرحلے میں ہی پہچانا جا سکتا ہے۔ تشخیص کے لیے مریض کا مکمل معائنہ، ضروری اسکین اور بایوپسی کی جاتی ہے، جو اس بیماری کی حتمی تصدیق کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔علاج کے حوالے سے ڈاکٹر ثمینہ علی نے بتایا کہ بیماری کی شدت اور مرحلے کے مطابق سرجری، ریڈیوتھراپی، کیموتھراپی، ٹارگیٹڈ تھراپی اور امیونوتھراپی جیسے جدید طریقۂ علاج اختیار کیے جاتے ہیں۔ اگر کینسر ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے تو مریض مکمل صحت یاب بھی ہو سکتا ہے اور اس کی بقا کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ علاج کے بعد بعض مریضوں کو بولنے، کھانا چبانے، نگلنے یا چہرے کی ساخت میں تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم جدید سرجری، ڈینٹل ری ہیبلیٹیشن، اسپیچ تھراپی اور مناسب غذائی رہنمائی کے ذریعے ان مسائل پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر ثمینہ علی نے ناظرین کو پیغام دیا کہ تمباکو اور اس سے بنی تمام اشیاء سے مکمل اجتناب کریں، شراب نوشی سے پرہیز کریں، منہ کی صفائی کا خاص خیال رکھیں، متوازن غذا استعمال کریں، ضرورت کے مطابق HPV ویکسین لگوائیں اور سال میں کم از کم ایک مرتبہ ڈینٹل اسکریننگ ضرور کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ منہ کے کینسر سے بچاؤ کا سب سے مؤثر ذریعہ عوامی آگاہی، صحت مند طرزِ زندگی اور بروقت تشخیص ہے۔
قارئین آپ ڈاکٹر ثمینہ علی کی مکمل گفتگویہاں دیکھ سکتےہیں۔ اورساتھ ہی دانتوں کی صحت پر دیگر ویڈیوز منصف ٹی وی ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔