Monday, May 18, 2026 | 30 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • اسکولیوسس کیا ہے؟ بروقت علاج، بڑی سرجری سے بچاؤ ممکن

اسکولیوسس کیا ہے؟ بروقت علاج، بڑی سرجری سے بچاؤ ممکن

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: May 18, 2026 IST

اسکولیوسس کیا ہے؟ بروقت علاج، بڑی سرجری سے بچاؤ ممکن
ریڑھ کی ہڈی انسانی جسم کا ایک نہایت اہم حصہ ہے جو جسم کے توازن، نشست و برخاست اور چلنے پھرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر ریڑھ کی ہڈی اپنی قدرتی سیدھی حالت سے مڑ جائے تو اس کیفیت کو طبی زبان میں “اسکولیوسس” کہا جاتا ہے۔ اس بیماری میں اسپائن دائیں یا بائیں جانب غیر معمولی طور پر جھک جاتی ہے جس سے جسمانی ساخت اور پوسچر متاثر ہونے لگتا ہے۔

اسکولیوسس کی تین بڑی اقسام

کمس سن شائن ہاسپٹل کے کنسلٹنٹ اسپائن سرجن ڈاکٹر ہمانشو آر پرساد نے منصف ٹی وی کے  خصوصی پروگرام ہیلتھ اور ہم  میں بتایا کہ اسکولیوسس کی تین بڑی اقسام ہوتی ہیں۔ پہلی قسم پیدائشی ہوتی ہے جسے “کنجینائٹل اسکولیوسس” کہا جاتا ہے، دوسری نوعمری میں ظاہر ہونے والی “ایڈولیسنٹ اسکولیوسس” اور تیسری بڑی عمر میں پیدا ہونے والی “ایڈلٹ اسکولیوسس” ہے۔

 ابتدائی علامات 

انہوں نے کہا کہ بچوں میں اسکولیوسس کی ابتدائی علامات میں ایک کندھے کا اوپر یا نیچے ہونا، جسم کا ایک طرف جھک جانا اور پشت کے ایک حصے کا زیادہ ابھرنا شامل ہیں۔ جبکہ بڑی عمر کے افراد میں کمر درد اور ٹانگوں کی نسوں میں کھنچاؤ جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

بروقت علاج، آپریشن کا محتاج نہیں 

ڈاکٹر ہمانشو کے مطابق ہر اسکولیوسس سرجری کا محتاج نہیں ہوتا۔ اگر بیماری ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہوجائے تو فزیوتھراپی، ورزش اور “بریسنگ” کے ذریعے اس کے بڑھاؤ کو روکا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض بچوں میں صرف پوسچر کی خرابی کی وجہ سے عارضی جھکاؤ پیدا ہوتا ہے، جو درست ورزش اور اسکول بیگ اٹھانے کے صحیح طریقے سے ٹھیک ہوسکتا ہے۔

 بیماری کو نظر انداز کرنا ہوسکتا ہے خطر ناک 

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بیماری کو نظر انداز کیا جائے تو اسپائن کا خم بڑھتا جاتا ہے اور بعد میں بڑی سرجری کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ شدید کیسز میں اسپائن کو سیدھا کرنے کے لیے اسکروز اور راڈز کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ جسم کا توازن بحال کیا جاسکے۔

 جدید دور  میں سرجری پہلے سے زیادہ محفوظ 

ڈاکٹر ہمانشو نے بتایا کہ جدید دور میں نیورو مانیٹرنگ، روبوٹکس اور نیویگیشن سسٹم جیسی جدید ٹیکنالوجی نے اسپائن سرجری کو پہلے سے زیادہ محفوظ اور مؤثر بنادیا ہے۔ نیورو مانیٹرنگ کے ذریعے سرجری کے دوران اعصاب کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جاسکے۔

 سرجری کےبعد کب معمول کی زندگی گزار سکتےہیں؟

انہوں نے کہا کہ کامیاب سرجری کے بعد مریض چند دنوں میں چلنے پھرنے کے قابل ہوجاتا ہے اور مناسب احتیاط کے ساتھ معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔ تاہم کانٹیکٹ اسپورٹس جیسے کبڈی اور فٹبال سے کم از کم ایک سال تک پرہیز ضروری ہوتا ہے۔

 مستقبل کی پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے کیا کریں

ماہرین کے مطابق اگر والدین بچوں کے جسمانی توازن، کندھوں کی ساخت یا بیٹھنے کے انداز میں غیر معمولی تبدیلی محسوس کریں تو فوری طور پر اسپائن اسپیشلسٹ سے رجوع کریں تاکہ بروقت علاج ممکن ہوسکے اور مستقبل میں پیچیدگیوں سے بچا جاسکے۔ کسی بھی مسئلہ پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع ہوں۔
 
قارئین آپ اس موضوع پر ڈاکٹر کی مکمل بات چیت یہاں دیکھ سکتےہیں۔