Sunday, May 17, 2026 | 29 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • کانگو میں ایبولا وائرس کا قہر: 88 ہلاکتیں، ڈبلیو ایچ او نے 'پبلک ہیلتھ ایمرجنسی' کا کیااعلان

کانگو میں ایبولا وائرس کا قہر: 88 ہلاکتیں، ڈبلیو ایچ او نے 'پبلک ہیلتھ ایمرجنسی' کا کیااعلان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 17, 2026 IST

 کانگو میں ایبولا وائرس کا قہر: 88 ہلاکتیں، ڈبلیو ایچ او نے 'پبلک ہیلتھ ایمرجنسی' کا کیااعلان
افریقی ملک کانگو میں ایبولا(Ebola)وائرس  کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے ،تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اب تک 80 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں مشتبہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اسے عالمی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے دیا ہے، جو کسی بھی وبائی مرض کے لیے الرٹ کی اعلیٰ ترین سطح ہے۔افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق، 16 مئی 2026 تک ایبولا کے باعث 88 اموات اور 336 مشتبہ کیسز رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں۔
 
 کوئی ویکسین موجود نہیں:
 
طبی ماہرین کے مطابق، حالیہ پھیلاؤ کی وجہ ایبولا وائرس کا نیا بنڈی بوگیو (Bundibugyo) سٹرین ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس مخصوص سٹرین کے علاج یا بچاؤ کے لیے فی الحال کوئی ویکسین یا مخصوص دوا دستیاب نہیں ہے۔کانگو کے وزیرِ صحت سیموئیل روزر کامبا نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سٹرین میں مریض کی موت کا خطرہ بہت زیادہ ہے، جو 50 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس سٹرین سے متاثرہ کانگو کا ایک شہری پڑوسی ملک یوگنڈا میں ہلاک ہو چکا ہے، جس سے علاقائی پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
 
 پہلا کیس کب اور کہاں سامنے آیا؟
 
ہیلتھ آفیشلز کے مطابق، یہ وبائی لہر شمال مشرقی کانگو کے صوبے اتوری (Ituri) میں پھیلی ہے، جو یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی سرحدوں کے قریب ہے۔کانگو حکومت کے مطابق، سب سے پہلے 24 اپریل 2026 کو 'بونیا' شہر کی ایک نرس اس وائرس کا شکار ہوئی تھی۔اب تک اس نئے سٹرین کے 8 کنفرم کیسز سامنے آئے ہیں، جبکہ بونیا، روامپارا اور مونگوالو کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ خطرے کے پیشِ نظر یوگنڈا، کینیا اور سوڈان نے اپنی سرحدوں پر نگرانی سخت کر دی ہے۔
 
 عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ہدایات:
 
ڈبلیو ایچ او (WHO) کے مطابق، ہفتے تک اتوری صوبے کے کم از کم 3 خطوں میں 80 مشتبہ اموات، 8 کنفرم اور 246 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ عالمی ادارے نے واضح کیا ہے کہ،اگرچہ بنڈی بوگیو وائرس کی یہ لہر ابھی مکمل وبائی ایمرجنسی کے تمام معیارات پر پوری نہیں اترتی، لیکن کانگو کے پڑوسی ممالک کے لیے خطرہ بہت زیادہ ہے۔ متاثرہ افراد یا مشتبہ مریضوں کو بین الاقوامی سفر کی ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے، الا یہ کہ وہ کسی مخصوص طبی انخلاء (Medical Evacuation) کا حصہ ہوں۔
 
 ایبولا وائرس کیا ہے؟ 
 
ایبولا وائرس پہلی بار 1976 میں افریقہ (سوڈان اور موجودہ کانگو) میں سامنے آیا تھا۔ کانگو میں اب تک اس وائرس کی 17ویں لہر آ چکی ہے۔یہ وائرس ایک متاثرہ انسان کے خون، الٹی (Vomit) اور جسم کے دیگر رطوبتوں (تَرل مادہ) کے براہِ راست رابطے میں آنے سے پھیلتا ہے۔یاد رہے کہ 2014 سے 2016 کے درمیان مغربی افریقہ میں ایبولا کی وجہ سے 11,000 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔