Sunday, May 17, 2026 | 29 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • منی پور تشدد : 3 گرجا گھروں کے رہنماؤں کا قتل، 38 افراد یرغمال ، 28 کی رہائی کے بعد بھی 20 لاپتہ

منی پور تشدد : 3 گرجا گھروں کے رہنماؤں کا قتل، 38 افراد یرغمال ، 28 کی رہائی کے بعد بھی 20 لاپتہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 17, 2026 IST

منی پور  تشدد : 3 گرجا گھروں کے رہنماؤں کا قتل، 38 افراد یرغمال ، 28 کی رہائی کے بعد بھی 20 لاپتہ
منی پور میں صدر راج ختم ہونے اور نئی حکومت بننے کے بعد بھی امن و امان کی صورتحال قابو میں نہیں آ رہی ہے۔ اس ہفتے تین ممتاز چرچ رہنماؤں کے بہیمانہ قتل کے بعد دو الگ الگ نسلی برادریوں کے درمیان ایک دوسرے کے شہریوں کو یرغمال بنانے کا خطرناک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اب تک 28 افراد کو بحفاظت رہا کرایا جا چکا ہے، لیکن تقریباً 20 افراد اب بھی اغواء کاروں کے قبضے میں ہیں۔
 
یہ تازہ تنازع13 مئی 2026 کو اس وقت شروع ہوا جب کانگپوکپی ضلع میں مشتبہ عسکریت پسندوں نے بپٹسٹ چرچ لیڈروں کے 3 رہنماؤں کو گولی مار کر ہلاک اور 4 دیگر کو زخمی کر دیا۔ اس قتل کے ردعمل میں ناگا برادری کے کم از کم 10 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا، جس کے جواب میں کُوکی  برادری نے بھی ناگا برادری کے لوگوں کو پکڑ لیا۔ یوں دونوں برادریوں نے ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھول دیا۔
 
ہلاک ہونے والے چرچ کے رہنما کون تھے؟
 
اطلاعات کے مطابق کُوکی برادری سے تعلق رکھنے والے تینوں چرچ رہنما اپنے ڈرائیور کے ساتھ چورا چاند پور سے کانگ پوکپی جا رہے تھے۔ راستے میں ناگا باغی گروپ 'زیلیانگرونگ یونائیٹڈ فرنٹ' (ZUF) کے مسلح عسکریت پسندوں نے ان کی گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ہلاک ہونے والوں میں ریورنڈ وی سِتَلہو بھی شامل تھے، جو تھادو بپٹسٹ ایسوسی ایشن (TBA) کے صدر اور منی پوربپٹسٹ کنونشن کے سابق جنرل سیکریٹری تھے۔ دیگر متاثرین کی شناخت ریورنڈ کیگولُن، پاسٹر پاؤگولُن اور ڈرائیور لیلن کے طور پر ہوئی۔
 
14 مئی کی رات 28 یرغمالی رہا:
 
14 مئی کو ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ شدت پسندوں کے قبضے میں لیے گئے کونساکھُل گاؤں کی 12 ناگا خواتین کو ماخان گاؤں میں رہا کرایا گیا۔ اس کے علاوہ سیناپتی ضلع میں یرغمال بنائے گئے کوکی برادری کے 14 افراد (4 مرد اور 10 خواتین) کو بھی دیر رات سیکورٹی فورسز کے حوالے کر دیا گیا۔ ڈان بوسکو سے وابستہ 2 افراد (جن میں ایک ناگالینڈ کا رہائشی ہے) کو بھی الگ سے رہا کیا گیا۔
 
20 افراد اب بھی اغواء کاروں کے چنگُل میں
 
حکام کے مطابق، اگرچہ حتمی تعداد واضح نہیں ہے، لیکن اب بھی کم از کم20 افراد لاپتہ ہیں۔ ان میں کُوکی برادری کے 14 اور ناگا برادری کے 6 افراد شامل ہیں۔16 مئی کو سیکیورٹی فورسز نے اغواء کیے گئے 6 ناگا شہریوں کی تلاش میں کانگ پوکپی کے جنگلاتی علاقوں میں ایک بڑا سرچ آپریشن شروع کیا ہے اور پورے علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
 
اب بھی 20 لوگ یرغمال:
 
یرغمالیوں کی درست تعداد ابھی سامنے نہیں آئی، مگر بتایا جا رہا ہے کہ اب بھی کم از کم 20 لوگ اغوا کاروں کے قبضے میں ہیں۔ ان میں کوکی-جو برادری کے 14 اور ناگا برادری کے 6 افراد شامل ہیں۔حکام نے بتایا کہ کل یعنی 16 مئی کو سیکورٹی فورسز نے اغوا شدہ 6 ناگا افراد کی تلاش میں کانگپوکپی ضلع میں آپریشن شروع کیا تھا۔ فی الحال حساس علاقوں میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
 
دوسری جانب یرغمالیوں کی بحفاظت رہائی کے لیے سیاسی سطح پر کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ لیکن اب تک کوئی حتمی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔