ہندوستان میں عید الاضحیٰ یعنی بقرعید اس سال 28 مئی کو پوری عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی۔اسلامی کیلنڈر کے مطابق 10 ذو الحجة کى صبحِ صادِق سے لے کر 12 ذو الحجة کے غُروبِ آفتاب کے دَرمىان اگر کوئى مسلمان عاقِل ، بالغ ، مقیم اور صاحبِ نِصاب ہو اور وہ نِصاب اس کے قرض اور ضروریات زندگی مىں مُسْتَغْرَق (یعنی ڈوبا ہوا ) نہ ہو تو اِس صورت مىں ان پر قربانى واجب ہے۔
جانوروں کے انتخاب کے لیے اہم اصول:
اسلام میں قربانی کے جانوروں کے انتخاب کے لیے کچھ اہم اصول مقرر ہیں،سب سے پہلے قربانی کا جانور حلال جانوروں میں سے ہونا چاہیے، جیسے بکری، بھیڑ، دنبہ، گائے، بھینس یا اونٹ۔ اس کے ساتھ ہی جو جانور قربانی کی عمر پوری کر چکے ہوں ان کی قربانی جائز ہے۔ اگرچہ انکے دانتوں کا ظہور ابھی نہیں ہوا ہو۔ قربانی کے جائز ہونے کے لیے اُونٹ کی عمر کم ازکم پانچ سال ، گائے کی دو سال اور بکرا ، بکری ، دُنبہ ، دُنبی اور بھیڑ کی ایک سال ہونا ضَروری ہے ۔ اَلبتّہ اگر دُنبہ یا بھیڑ کا چھ مہینے کا بچہ اتنا بڑا ہو کہ دُور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تواس کی قربانی بھی جائز ہے۔
قربانی کا جانور کیسا ہو؟
اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ قربانی کا جانور صحت مند اور تندرست ہو۔ ایسا جانور جو بہت زیادہ بیمار، کمزور، اندھا یا لنگڑا ہو، قربانی کے لیے مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ اسی طرح جانور کے کان، دم یا دیگر اعضا میں واضح نقص نہیں ہونا چاہیے۔ اچھا، خوبصورت اور طاقتور جانور اللہ کی راہ میں قربان کرنا افضل عمل مانا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ اسلام جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے، اس لیے قربانی سے پہلے جانور کو بھوکا یا پیاسا نہیں رکھنا چاہیے اور اس کے ساتھ نرمی اور محبت کا برتاؤ کرنا چاہیے۔
قربانی صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور تقویٰ کے جذبے کے تحت کی جانی چاہیے، نہ کہ دکھاوے یا شہرت کے لیے۔ یہی قربانی کی اصل روح اور اسلامی تعلیمات کا پیغام ہے۔
مذہب اسلام میں قربانی صرف بکرے کو ذبح کرنے یا گوشت کھانے کا نام نہیں ،بلکہ اپنی خواہشات ، غرور ،انا وتکبر کو ختم کرنے اور اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کا نام ہے۔عیدالاضحیٰ ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی سب سے عزیز چیز بھی قربان کرنی پڑے، تو سچا مومن پیچھے نہیں ہٹتا۔