بھارت کیدو اہم ریاستوں آسام، کیرالہ اور پڈوچیری میں 9 اپریل 2026 کو ہونے والے انتخابات نے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ تینوں علاقوں میں انتخابی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور سکیورٹی سمیت تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اسمبلی انتخابات کے موسم میں ایک اور اہم لمحے کے لیے اسٹیج تیار ہے، جو ملک بھر میں سیاسی دلچسپی کو ہوا دے رہا ہے۔ کل (9 اپریل) جمعرات کو دو ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ایک ہی مرحلے میں انتخابات ہوں گے۔ آسام اور کیرالہ کے ساتھ ساتھ مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری کے لوگ اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ تینوں خطوں میں 6.1 کروڑ سے زیادہ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ یہ انتخابات علاقائی اور قومی جماعتوں کے لیے امتحان ہوں گے۔ تمل ناڈو اور مغربی بنگال کے ساتھ ساتھ ان انتخابات کے نتائج کا اعلان بھی 4 مئی کو کیا جائے گا۔
انتخابی تیاریاں اورسکیورٹی انتظامات
الیکشن کمیشن کی جانب سے دو ریاستوں اور ایک مرکزی زیر انتظام علاقہ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ حساس پولنگ بوتھس پر نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں جبکہ پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی نگرانی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔ خاص طور پر آسام میں سرحدی علاقوں اور کیرالہ میں شہری مراکز پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
پولنگ بوتھس اور رائے دہندگان
آسام میں 126 سیٹوں کےلئے پولنگ ہوگی ۔ کیرالہ میں 140سیٹوں کےلئے اور پانڈو چیری میں 30 سیٹوں کےلئے ووٹ ڈالے جائیں گے۔رائے دہندگان کی تعداد کے لحاظ سے کیرالہ میں سب سے زیادہ یعنی تقریباً 2.7 کروڑ ووٹرز ہیں، آسام میں قریب 2.3 کروڑ جبکہ پانڈوچیری میں لگ بھگ 10 لاکھ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ الیکشن کمیشن نے آسام میں تقریباً 35 ہزار پولنگ بوتھس قائم کیے گئے ہیں، جبکہ کیرالہ میں 25 ہزار سے زائد اور پانڈوچیری میں تقریباً 1,500 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔
امیدواروں کی تعداد اور اہم چہرے
تینوں ریاستوں میں مجموعی طور پر ہزاروں امیدوار میدان میں ہیں۔ آسام میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے، جبکہ کیرالہ میں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (LDF) اور یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (UDF) آمنے سامنے ہیں۔ پانڈوچیری میں علاقائی جماعتوں کے ساتھ قومی پارٹیاں بھی سرگرم ہیں۔اہم امیدواروں میں ریاستی وزراء، سابق وزرائے اعلیٰ اور کئی نئے چہرے شامل ہیں جو انتخاب کو دلچسپ بنا رہے ہیں۔
پولنگ کا وقت اور نتائج کی تاریخ
پولنگ کا عمل صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک جاری رہے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹوں کی گنتی مئی 2026 کو ہوگی اور اسی دن نتائج کا اعلان متوقع ہے۔
کیرالہ اسمبلی الیکشن پر ایک نظر
ریاست میں 140 اسمبلی سیٹوں پر پولنگ ہوگی۔ گزشتہ چار دہائیوں سے کیرالہ میں LDF اور UDF اتحاد باری باری اقتدار میں آ رہے ہیں۔ تاہم، 2021 میں، سی پی آئی (ایم) کی قیادت والی لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) نے لگاتار دوسری بار جیت کر اس روایت کو توڑا۔ ایل ڈی ایف اس سے قبل 1980، 1987، 1996، 2006 اور 2016 میں اقتدار میں آئی تھی۔ دوسری طرف کانگریس کی قیادت والی یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) اس بار اقتدار میں واپسی کی امید کر رہی ہے۔ اس اتحاد نے 1982، 1991، 2001 اور 2011 میں حکومتیں بنائی تھیں۔ کیرالہ میں کل 2.71 کروڑ ووٹر ہیں، جن میں سے 1.39 کروڑ خواتین، 1.32 کروڑ مرد اور 273 خواجہ سرا ہیں۔ 4.66 لاکھ نوجوان پہلی بار ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں۔
آسام اسمبلی الیکشن پرایک نظر
126 سیٹوں کےلئےکل 722 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما، ریاستی کانگریس کے صدر گورو گوگوئی، قائد حزب اختلاف دیببرتا سائکیا، اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ بدرالدین اجمل، رائیور دل لیڈر اکھل گوگوئی اور آسوم جاتیہ پریشد (اے جے پی) کے صدر لورین جیوتی گوگوئی شامل ہیں۔
ووٹنگ صبح 7 بجے سے شام 5 بجے تک ہوگی۔ 35 اضلاع میں 31,490 پولنگ اسٹیشنوں پر۔ کل 25 ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں، جن میں 12.5 ملین خواتین اور 318 تیسری صنف کے ووٹرز شامل ہیں۔
پڈوچیری اسمبلی الیکشن پر ایک نظر
پڈوچیری میں 9 اپریل کو اس کے اسمبلی انتخابات کے لیے پولنگ ہونے والی ہے، تمام 30 حلقوں میں ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔ مرکز کے زیر انتظام علاقے (UT) کے پڈوچیری، کرائیکل، ماہے اور یانم علاقوں میں اسمبلی کی 30 نشستیں ہیں۔ پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کی بھری ریلیوں اور گھر گھر مہم کے ذریعے ووٹروں تک پہنچنے کے بعد شدید انتخابی مہم منگل کی شام کو ختم ہو گئی۔ 30 سیٹوں والی یوٹی اسمبلی کےلئے جملہ 294 امیدوار میدان میں ہیں کیونکہ آنے والا انتخاب این ڈی اے اور آئی این ڈی آئی اے بلاک کے لیے وقار کی لڑائی ہے۔ انتخابی حکام نے رائے دہندگان کو بوتھ پر جانے کی ترغیب دینے کے لیے پورے UT میں بیداری کے کئی پروگرام شروع کیے ہیں، جس کا مقصد رائے دہی کا فیصد بڑھانا ہے۔
مسلمان ووٹروں کا اثر
آسام اور کیرالہ میں مسلم ووٹروں کا خاصا اثر و رسوخ ہے۔ آسام کے کئی حلقوں میں مسلم ووٹر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ کیرالہ میں بھی مسلم کمیونٹی ایک مضبوط سیاسی طاقت سمجھی جاتی ہے۔ پانڈوچیری میں ان کی تعداد کم ہے لیکن کچھ حلقوں میں ان کا اثر نمایاں ہے۔