منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "دانتوں کی بے ترتیبی (Types of Malocclusions): اسباب، علامات اور جدید علاج" کے موضوع پر معروف کاسمیٹک ڈینٹل سرجن ڈاکٹر ثمینہ علی نے تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دانتوں کی بے ترتیبی یا مال اوکلوژن (Malocclusion) صرف ایک جمالیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ منہ، دانتوں اور مجموعی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے نہ صرف خوبصورت مسکراہٹ حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ چبانے، بولنے اور جبڑے کے افعال کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر ثمینہ علی نے بتایا کہ مال اوکلوژن اس کیفیت کو کہتے ہیں جب اوپری اور نچلے دانت صحیح انداز میں ایک دوسرے پر نہ بیٹھیں۔ یہ مسئلہ پیدائشی بھی ہو سکتا ہے اور بعد میں مختلف عادات یا عوامل کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وراثت، بچپن میں انگوٹھا چوسنے کی عادت، طویل عرصے تک پیسیفائر کا استعمال، دانتوں کا وقت سے پہلے گر جانا، جبڑے کی غیر معمولی نشوونما اور چوٹ بھی اس کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
انہوں نے مال اوکلوژن کی مختلف اقسام کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اوور بائٹ (Overbite)، انڈر بائٹ (Underbite)، کراس بائٹ (Crossbite)، اوپن بائٹ (Open Bite) اور بھیڑ والے دانت (Crowding) اس کی عام اقسام ہیں۔ ہر قسم کی علامات اور علاج مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے درست تشخیص انتہائی ضروری ہے۔
ڈاکٹر ثمینہ علی کے مطابق اگر کھانا چبانے میں دشواری، جبڑے میں درد، بار بار زبان یا گال کا کٹ جانا، دانتوں کی غیر معمولی گھسائی، بولنے میں دشواری یا دانتوں کی غیر متوازن ساخت محسوس ہو تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت ڈینٹل معائنہ مستقبل میں پیچیدہ مسائل سے بچا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جدید ڈینٹل سائنس میں مال اوکلوژن کے علاج کے متعدد مؤثر طریقے موجود ہیں۔ ان میں بریسز (Braces)، شفاف الائنرز (Clear Aligners)، ریٹینرز (Retainers)، بعض صورتوں میں دانت نکالنا اور شدید کیسز میں جبڑے کی سرجری (Orthognathic Surgery) شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاج کا انتخاب مریض کی عمر، مسئلے کی نوعیت اور شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ثمینہ علی نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بچوں کا پہلا آرتھوڈانٹک معائنہ تقریباً سات سال کی عمر میں ضرور کروائیں تاکہ اگر دانتوں یا جبڑے کی نشوونما میں کوئی خرابی ہو تو اس کا بروقت علاج کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ علاج کے دوران منہ کی صفائی کا خاص خیال رکھنا، روزانہ برش اور فلاس کا استعمال کرنا اور باقاعدگی سے ڈینٹسٹ سے معائنہ کروانا انتہائی ضروری ہے۔
پروگرام کے اختتام پر ناظرین کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر ثمینہ علی نے دانتوں کی درست دیکھ بھال، متوازن غذا، بروقت تشخیص اور جدید علاج کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مال اوکلوژن کو صرف ظاہری خوبصورتی کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں، کیونکہ اس کا تعلق منہ کی مجموعی صحت، اعتماد اور معیارِ زندگی سے بھی ہے۔ منصف ٹی وی کا "ہیلتھ اور ہم" پروگرام ماہرینِ صحت کی رہنمائی کے ذریعے عوام میں صحت سے متعلق درست معلومات اور شعور بیدار کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
قارئین ڈاکٹر ثمینہ علی کے اس ویڈیو اور دانتوں کی صحت سے متعلق دیگر ویڈیوز یہاں دیکھ سکتےہیں۔