• News
  • »
  • کھیل/تفریح
  • »
  • فٹبال عالمی کپ:شاہ عبداللہ کی موجودگی بھی اردن کو شکست سے نہ بچا سکی

فٹبال عالمی کپ:شاہ عبداللہ کی موجودگی بھی اردن کو شکست سے نہ بچا سکی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jun 23, 2026 IST

فٹبال عالمی کپ:شاہ عبداللہ کی موجودگی بھی اردن کو شکست سے نہ بچا سکی
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اردن اور الجزائر کے درمیان کھیلا گیا اہم مقابلہ،صرف ایک فٹبال میچ نہیں بلکہ اردن کے لیے ایک جذباتی لمحہ بھی تھا۔ اس میچ میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم، ولی عہد شہزادہ حسین اور شہزادی رجوہ خصوصی طور پر کیلیفورنیا کے اسٹیڈیم پہنچے تاکہ قومی ٹیم کی حوصلہ افزائی کر سکیں۔ تاہم شاہی خاندان کی موجودگی اور ہزاروں شائقین کی بھرپور حمایت کے باوجود اردن کو الجزائر کے ہاتھوں 2-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
 
میچ کے آغاز میں اردنی ٹیم نے شاندارمظاہرہ کیا اوراردن کی ٹیم نے پہلا گول کرکے برتری حاصل کر لی۔ اس گول کے بعد اسٹیڈیم میں موجود اردنی شائقین اور شاہی خاندان کے افراد خوشی سے جھوم اٹھے۔ اس وقت ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اردن ایک اہم کامیابی کی جانب بڑھ رہا ہے جو اسے ناک آؤٹ مرحلے کی دوڑ میں برقرار رکھ سکتا تھا۔
 
لیکن دوسرے ہاف میں صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو گئی۔ الجزائر کی ٹیم نے زیادہ جارحانہ انداز اختارکیا اور مسلسل حملوں کے ذریعے اردنی دفاع کو توڑ کر الجزائر نے گول کرکےاسکور برابر کیا اور پھر دوسرا گول کرکے میچ کا رخ اپنے حق میں موڑ دیا۔
 
اسی  دوران کیمروں نے کئی بار شاہی خاندان، شاہ عبداللہ دوم، ولی عہد شہزادہ حسین اور شہزادی رجوہ کو دکھایا۔ اردنی شائقین کو امید تھی کہ اسٹیڈیم میں شاہی خاندان کی موجودگی کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کرے گی، لیکن الجزائر کی منظم حکمت عملی اور مؤثر کھیل کے سامنے اردن  کو کامیابی نہیں مل سکی۔
 
یہ شکست اردن کے لیے  زیادہ تکلیف دہ  اس لئے سمجھی جا رہی ہے کیونکہ ٹیم نے میچ میں ابتدا سے برتری حاصل کر لی تھی۔ ایک وقت ایسا لگ رہا تھا کہ اردن فتح حاصل کر لے گا، لیکن دوسرے ہاف میں الجزائر کی واپسی نے تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
 
فٹبال حلقوں میں اس میچ کو الجزائر کا بہترین کم بیک اور اردن کے لیے ایک افسوسناک موقع ضائع ہونے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ الجزائر کی ٹیم نے ثابت کیا کہ وہ دباؤ کے باوجود میچ کا نتیجہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ اردن کو اپنی دفاعی کمزوریوں کی قیمت ادا کرنا پڑی۔
 
اس شکست کے بعد اردن کی ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی کی امیدیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
 
یہ مقابلہ ورلڈ کپ 2026 کے ان یادگار میچوں میں شمار کیا جا سکتا ہے جس میں شاہی خاندان کی حمایت، شائقین کی امیدیں اور میدان میں ہونے والی ڈرامائی واپسی ایک ساتھ دیکھنے کو ملی، لیکن آخر میں فتح الجزائر کے حصے میں آئی جبکہ اردن کے خواب ادھورے رہ گئے۔