رانچی میں بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان پہلے ون ڈے میں ویراٹ کوہلی نے اپنی 52ویں سنچری مکمل کی۔ اسی دوران اسٹیڈیم میں ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے سب کو چونکا دیا۔ جب ایک فین نے حفاظتی رکاوٹ توڑ کر براہِ راست میدان میں داخل ہو گیا۔اور کوہلی کے پاؤں چھونے کی کوشش کی۔ کوہلی پرسکون رہے اور انہیں اوپر اٹھانے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی اہلکار فوراً پہنچے اور فین کو میدان سے باہر لے گئے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا جس سے سوال اٹھ رہے ہیں کہ اس طرح کی سکیورٹی لیپس میں کی جانے والی کارروائی اور فینس کو کس قسم کی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
اسٹیڈیم کی سیکورٹی کی ذمہ داری کس کی؟
ہندوستان میں کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک تہوار ہے۔ فین اکثر اپنے ہیرو کے قریب جانے کے لیے بڑی حد تک جاتے ہیں۔ تاہم اس انداز میں میدان میں داخل ہونا نہ صرف غیر محفوظ ہے بلکہ بین الاقوامی میچ کے سیکیورٹی پروٹوکول کی بھی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ ایسے معاملات میں، بنیادی ذمہ داری اسٹیڈیم کی سیکورٹی اور مقامی پولیس پر عائد ہوتی ہے، جنہیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ تماشائی میدان کی حدود سے تجاوز نہ کریں۔
سزا کیا ہے؟
بی سی سی آئی یا آئی سی سی کی طرف سے ایسے معاملات کے لیے کوئی سخت قوانین مقرر نہیں ہیں، لیکن ہمیشہ حالات کی بنیاد پر کارروائی کی جاتی ہے۔ گراؤنڈ میں داخل ہونے والے شائقین کو فوری طور پر پولیس کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ یہی کچھ رانچی میں بھی ہوا۔
بہت سے معاملات میں، مداحوں کو انتباہ کے ساتھ چھوڑ دیا جاتا ہے، لیکن کارروائی سخت بھی ہو سکتی ہے۔ آسٹریلیا میں 2022 کے T20 ورلڈ کپ کے دوران، ایک ہندوستانی فین پر تقریباً 6.5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ کچھ ممالک میں ایسے شائقین کے اسٹیڈیم میں داخلے پر عارضی یا مستقل پابندی بھی عائد ہے۔
اسٹیڈیم پر بھی اثر پڑا
آئی سی سی اس طرح کی سیکورٹی خلاف ورزیوں کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اگر ایسا واقعہ ایک گراؤنڈ میں لگاتار دو یا تین بار پیش آئے تو گراؤنڈ کو ڈیمیرٹ پوائنٹس ملتے ہیں۔ مسلسل کوتاہیوں کی وجہ سے اسٹیڈیم کو ایک مدت کے لیے بین الاقوامی میچوں کی میزبانی پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔