سپریم کورٹ نے اُناؤ میں نابالغ سے ریپ کے مجرم اور سابق بی جے پی کے ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کو متاثرہ کے والد کی پولیس حراست میں موت کے کیس میں ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے ان کی عرضی دہلی ہائی کورٹ کو بھیج دی ہے اور اسے ترجیحی بنیاد پر (out-of-turn) سننے اور فیصلہ کرنے کا کہا ہے۔ کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ تین ماہ کے اندر فیصلہ کر دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی متاثرہ کی طرف سے سزا بڑھانے کی اپیل کو بھی کلدیپ سینگر کی اپیل کے ساتھ ہی سننے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
عرضی میں سزا کو چیلنج کیا گیا تھا:
لائیو لا کے مطابق، چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) سوریہ کانت، جسٹس جوئمالیا باغچی اور جسٹس این وی انزاریہ کی بنچ نے پیر کو (9 فروری 2026) سینگر کی عرضی پر سماعت کی۔ اس عرضی میں سینگر نے اُناؤ ریپ کیس میں متاثرہ کے والد کی حراست میں موت سے متعلق کیس میں اپنی سزا اور 10 سال قید کی سزا کو چیلنج کیا تھا۔ واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے 19 جنوری کو ایک حکم میں موت کے کیس میں ان کی سزا معطل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
سی بی آئی نے کیا کہا؟
کورٹ میں مرکزی تحقیقاتی بیورو (CBI) کی نمائندگی کرنے والے سالیسٹر جنرل تُشار مہتا نے بتایا کہ سینگر کی سزا کے خلاف مرکزی اپیل کی سماعت 11 فروری کو ہونی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اسے جلد از جلد اور ترجیحی بنیاد پر سن لیا جائے۔ سینگر کے وکیل سدھارتھ دیوے نے بتایا کہ انہوں نے 10 سال کی سزا میں سے تقریباً 7 سال 7 ماہ قید کاٹ لی ہے۔ پیڑیتا نے سینگر کی سزا بڑھانے کی اپیل دائر کی ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ یہ کیس اُناؤ ریپ کیس سے جڑا ہوا ہے جہاں کلدیپ سنگھ سینگر کو نابالغ لڑکی سے ریپ کے الزام میں الگ سے سزا سنائی جا چکی ہے، اور یہ حراست میں موت کا معاملہ اسی سے منسلک ہے۔ سپریم کورٹ نے فوری ریلیف دینے سے انکار کرتے ہوئے معاملہ ہائی کورٹ کو واپس بھیج دیا ہے تاکہ وہ جلد فیصلہ کر سکے۔