جموں و کشمیر اسمبلی میں پیرکواس وقت شدید ہنگامہ آرائی ہوئی جب پی ڈی پی رکن وحید الرحمان پرہ نے SASCI اسکیم کو ریاست کے لیے "ڈیتھ ٹریپ" قرار دیا۔ نیشنل کانفرنس کے اراکین نے ان الزامات پر سخت احتجاج کیا، جس کے دوران ڈپٹی وزیراعلیٰ اور پرہ کے درمیان مائیک چھپانے پر تلخ کلامی بھی ہوئی۔ ایوان میں شور شرابے کے باعث کارروائی کچھ دیر کے لیے معطل کر دی گئی۔
کوئی فلاحی اسکیم نہیں بلکہ قرض کا جال
بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پارا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ (عمر عبداللہ) اور نیشنل کانفرنس کے اراکین دعویٰ کر رہے ہیں کہ مرکز کے زیرِ انتظام خطے میں سرمایہ کاری کے لیے خصوصی امدادی اسکیم لائی جا رہی ہے۔ یہ کوئی فلاحی اسکیم نہیں بلکہ قرض کا جال ہے، جس کے ذریعے آپ جموں و کشمیر کو صنعت کاروں کے ہاتھوں گروی رکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا كہ آپ بازار سے قرض لے رہے ہیں، جو تباہی کے مترادف ہے اور ایک نہایت خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔ پارا نے کہا کہ 2019 میں دفعہ 370 کی بعض شقوں کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کے مفادات کے تحفظ اور سابقہ ریاست کو اس کے تمام حفاظتی اختیارات کے ساتھ بحال کرنے کے لیے نیشنل کانفرنس کو بھاری عوامی مینڈیٹ ملا تھا۔
جموں و کشمیر کو فروخت کرنے کا الزام
انہوں نے کہا كہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اس مینڈیٹ کا احترام کرنے کے بجائے آپ (نیشنل کانفرنس کی حکومت) آج پورے جموں و کشمیر کو بیچ رہے ہیں۔ پارا نے وزیر اعلیٰ سے اس اسکیم پر نظرِ ثانی کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ جموں و کشمیر کو “سری لنکا اور پاکستان جیسے ناکام ممالک” جیسی صورتحال کی طرف نہیں دھکیلا جانا چاہیے ۔نائب وزیر اعلیٰ سرندر چودھری نے جوابی حملہ کرتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کر دیا اور اپوزیشن رہنماؤں پر الزام لگایا کہ وہ “عوام کو خوش کرنے” کے لیے ترقی کے مقصد سے بنائی گئی مالی امدادی اسکیم کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں۔
نائب وزیراعلیٰ کی اپوزیشن پرتنقید
جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے اپوزیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل طور پر تذبذب کا شکار ہیں اور بے بنیاد بیان بازی کر رہے ہیں ۔ چودھری نے جموں میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ اپوزیشن ہے جنہوں نے جموں کشمیر کا خصوصی درجہ چھینا اور نو جوانوں کی نوکریاں چھین لی۔نیشنل کانفرنس نے پارا کے بیان کی مخالفت کی، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان تیز و تند بحث دیکھنے میں آئی۔ پارا کے ساتھ ان کے پارٹی ساتھی اور آزاد رکنِ اسمبلی شیخ خورشید بھی موجود تھے۔ اسمبلی اسپیکر مبارک گل نے صورتحال کو قابو میں کرنے کی کئی کوششیں کیں اور بالآخر پہلے اجلاس کے مقررہ وقت سے آدھا گھنٹہ قبل ہی ایوان ملتوی کر دیا۔
بی جےپی نے کیا ایوان سے واک آوٹ
اپوزیشن جماعت بی جے پی نے آج اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ اعوان میں دوسری بڑی جماعت ہونے کہا باوجود اُنکے ممبران کو بولنے کا موقعہ نہیں دیا جاتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے کہا کہ عمر عبداللہ سرکار نے بجٹ میں عارضی ملازمین کے ساتھ ایک گندا مذاق کیا ہے۔ شرما نے کہا کہ، بنا کسی روڈ میپ کے سرکار کس طرح سے عارضی ملازمین کو مُستقل کر سکتی ہے۔ شرما نے، ساولا کوٹ پاور پرجیکٹ کی ٹیندیننگ ہونے پر وزیرِ اعظم کی ستائش کی۔
ہنگامے کے دوران بی جے پی کے اراکین اپنی نشستوں سے اٹھ کر ایوان سے باہر چلے گئے اور اسپیکر پر الزام لگایا کہ انہیں بجٹ پر بولنے کا وقت نہیں دیا گیا۔ بی جے پی کے کچھ اراکین نے اسپیکرپوڈیم کے قریب جانے کی بھی کوشش کی، تاہم مارشلز نے انہیں پیچھے ہٹا دیا۔