اکیڈمی ایوارڈ کے 98ویں ایڈیشن کے دوران ایک غیر متوقع لمحہ اس وقت سامنے آیا جب اداکار Javier Bardem نے اسٹیج پر آ کر مائیک پر بلند آواز میں “آزاد فلسطین” کا نعرہ لگایا۔ اس وقت ان کے ساتھ بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ پرینکا چوپڑا بھی موجود تھیں۔یہ واقعہ لاس اینجلس کے Dolby Theatre میں جاری آسکر تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں دونوں اداکار بین الاقوامی فیچر فلم کا ایوارڈ پیش کرنے کے لیے اسٹیج پر آئے تھے۔
اس موقع پر دونوں فلمی ستاروں نے بین الاقوامی فیچر فلم کا آسکر ناروے کی فلم “Sentimental Value” کو دیا، جس کی ہدایت کاری Joachim Trier نے کی ہے۔ یہ فلم ایک باپ اور اس کی دو بیٹیوں کے درمیان پیچیدہ خاندانی تعلقات اور ماضی کے حل طلب مسائل کی کہانی بیان کرتی ہے۔ کہانی ایک ایسے فلم ساز کے گرد گھومتی ہے جو نئے فلمی منصوبے کے دوران اپنے خاندان سے دوبارہ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
تقریب میں Priyanka Chopra نے ڈائر کا سفید رنگ کا کسٹم اسٹرپ لیس گاؤن پہنا جس میں کارسیٹ اسٹائل باڈی، لمبا اسکرٹ اور ران تک اونچی سلٹ نمایاں تھی۔ گاؤن کے کناروں پر سیاہ اور سفید پنکھوں جیسی تفصیل نے لباس کو منفرد اور دلکش بنا دیا۔ اداکارہ نے اس لباس کو ہیرے اور زمرد کے زیورات کے ساتھ مکمل کیا، جب کہ ان کا اسٹائل کلاسک اولڈ ہالی ووڈ گلیمر سے متاثر تھا۔
پرینکا چوپڑا تقریب میں اپنے شوہر Nick Jonas کے ساتھ شریک ہوئیں، جنہوں نے کلاسک سیاہ ٹکسڈو پہن رکھا تھا۔لاس اینجلس میں جاری اس سال کے آسکر کی میزبانی معروف ٹی وی میزبان Conan O'Brien کر رہے ہیں۔ جبکہ ہدایت کار Ryan Coogler کی فلم “Sinners” اس سال 16 نامزدگیوں کے ساتھ ایوارڈز کی دوڑ میں سب سے آگے بتائی جا رہی ہے، جن میں بہترین فلم، ہدایت کار اور اداکار کے اہم اعزازات شامل ہیں۔
آزاد فلسطین کے نعرے
"آزاد فلسطین" اور اس سے متعلق نعرے، خاص طور پر "دریا سے سمندر تک، فلسطین وِل بی فری ،" فلسطینیوں کے خود ارادیت اور قبضے کے خاتمے کے مطالبے کے لیے عالمی مظاہروں میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر اکتوبر 2023 سے۔ تاہم، اس جملے کا بہت زیادہ مقابلہ کیا جاتا ہے، جسے بہت سے لوگ امن کے مطالبے کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن اکثر اسرائیل اور اس کے حامیوں کی طرف سے اس کی تشریح اسرائیل کی ریاست کے خاتمے کے مطالبے سے کی جاتی ہے۔
تنازعہ اور سام دشمنی: اسرائیل کے حامی گروپوں کا دعویٰ ہے کہ نعرہ اسرائیل کی تباہی کا مطلب ہے اور یہ ایک سام دشمن، دشمنانہ پیغام کے طور پر کام کرتا ہے جس سے یہودی برادریوں کو غیر محفوظ محسوس ہوتا ہے۔
قانونی حیثیت: اس کی قانونی تشریح مختلف ہوتی ہے۔ کچھ جرمن عدالتوں نے اس پر جرمانہ عائد کیا ہے یا اسے تشدد کو معاف کرنے کے طور پر پابندی عائد کی ہے، جب کہ دوسروں نے اسے محفوظ تقریر سمجھا ہے۔
استعمال: یہ نعرہ عالمی سطح پر احتجاجی مظاہروں میں ظاہر ہوا ہے، بشمول یونیورسٹی کیمپس اور توڑ پھوڑ کی کارروائیوں میں، بعض اوقات سیاسی اظہار پر شدید بحث بھی ہوتی ہے۔