وینزویلا کے معاملے پر دنیا بھر کے ممالک تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ چین سمیت کئی ممالک نے امریکہ کی کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائیوں اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے دوران بھارت کی سب سے بڑی تشویش وینزویلا کے عوام کی سلامتی ہے۔
لکسمبرگ میں جے شنکر نے کیا کہا
لکسمبرگ میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ایس جے شنکر نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ مل بیٹھ کر وینزویلا کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی حل نکالیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم نے کل ایک بیان جاری کیا تھا، اس لیے میں آپ سے گزارش کروں گا کہ اسے دیکھیں۔ اس بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم حالیہ پیش رفت پر فکرمند ہیں، لیکن ہم تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ وینزویلا کے عوام کی بھلائی اور سلامتی کے مفاد میں مل کر کوئی حل تلاش کریں، کیونکہ آخرکار یہی ہماری اصل تشویش ہے۔
وینزویلا کے ساتھ بھارت کے تعلقات
ایس جے شنکر نے کہا کہ ہم وینزویلا کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جس کے ساتھ ہمارے کئی برسوں سے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ حالات جیسے بھی ہوں، وہاں کے عوام محفوظ رہیں۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو حال ہی میں ایک آپریشن کے دوران امریکی فورسز نے دارالحکومت کراکس سے گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا ہے۔ امریکہ میں ان پر منشیات اسمگلنگ اور غیر قانونی اسلحہ کے معاملات میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے جے شنکر نے کیا کہا
عالمی سیاست پر بات کرتے ہوئے ایس جے شنکر نے کہا کہ آج کے دور میں ممالک وہی کرتے ہیں جس سے انہیں براہ راست فائدہ ہو۔ وہ آپ کو مفت مشورے دیتے ہیں۔ اگر کچھ ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں، براہ کرم ایسا نہ کریں۔ اگر کشیدگی ہوتی ہے تو وہ تشویش ظاہر کرتے ہیں۔ کبھی کبھار آپ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں، جیسا کہ آپریشن سندور کے دوران ہوا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کیا واقعی انہیں تشویش ہے تو وہ اپنے ہی خطے کی طرف کیوں نہیں دیکھتے اور خود سے یہ سوال کیوں نہیں کرتے کہ وہاں تشدد کی سطح کیا ہے، کتنا خطرہ مول لیا گیا ہے، اور جو وہ کر رہے ہیں اس سے باقی دنیا کو کتنی تشویش لاحق ہوتی ہے؟ لیکن دنیا کی یہی فطرت ہے۔ لوگ جو کہتے ہیں، وہ کرتے نہیں ہیں۔ ہمیں اسے اسی جذبے کے ساتھ قبول کرنا ہوگا۔