اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی اور آئی آئی ٹی بمبئی کی مشترکہ کوششیں صنعتی جدّت، نیم موصل ٹیکنالوجی اور مادّی تحقیق میں عالمی معیار کے ماہرین تیار کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔
کریتیکا شرما
شمبھوی سنگھ، جو اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی (او ایس یو) انڈیا گیٹ وے کی ڈائریکٹر ہیں، کے لیے دنیا کے جدید ترین تعلیمی نظاموں تک پُل بنانا محض ایک استعارہ نہیں بلکہ روز مرہ کی حقیقت ہے۔ سنگھ، جنہوں نے ۲۰۲۳ء میں ہارورڈ گریجویٹ اسکول آف ایجوکیشن سے ایجوکیشن پالیسی اور تجزیہ میں فل برائٹ۔نہرو ماسٹرس فیلوشپ مکمل کی، اس بات کی عملی مثال ہیں کہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان ایک کامیاب تعلیمی تبادلہ کیا حاصل کر سکتا ہے۔ وہ آئی آئی ٹی بمبئی۔اوہائیو اسٹیٹ فرنٹیئر سینٹر میں علمی معیار اور تحقیقی ثقافت کے باہمی امتزاج کی نگرانی کرتی ہیں۔ یہ سینٹر دونوں جامعات کے درمیان شراکت داری ہے، جسے ممبئی میں واقع امریکی قونصل خانہ کی حمایت حاصل ہے۔
فرنٹیئر سینٹر کا فلیگ شپ اسکالر پروگرام ڈاکٹریٹ کے طلبہ کو یہ سہولت فراہم کرتا ہے کہ وہ ایسے تحقیقی منصوبے پر کام کریں جو دونوں اداروں کے اساتذہ کی مشترکہ تیاری اور رہنمائی سے انجام پاتے ہیں، شراکت دار ادارے میں ایک سمسٹر مکمل کریں اور دونوں کیمپس میں اساتذہ کے ساتھ براہ راست کام کریں۔ اس اقدام کا ہدف محققین، طلبہ اور صنعتی نمائندوں پر مشتمل ایک ہمہ گیر برادری کی تشکیل ہے جو مادّی علوم، آلات سازی، پرزہ جات اور نظامی شعبوں میں جامعات کی علمی صلاحیت کو مشترکہ علمی نشستوں، ویب پر مبنی لیکچرس ، تدریسی تبادلوں اور تحقیقی ابتدائی معاونت سے تقویت دے۔
تحقیق کے بنیادی شعبوں میں جدید پیداوار ، الیکٹرانکس، فوٹونکس، ابھرتے ہوئے مادّوں کو کوانٹم انفارمیشن اور ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
ہم آہنگ افرادی قوت
اس سینٹر کی سب سے طاقتور شراکت سیمی کنڈکٹر اور مادّوں کی صنعتوں کے لیے عالمی معیار کی افرادی قوت کی تیاری ہے۔
او ایس یو۔آئی آئی ٹی بامبے شراکت داری کے تحت حال ہی میں شروع کیے گئے ڈوئل ڈاکٹریٹ ڈگری پروگرام کے ذریعہ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ مائیکروالیکٹرانکس اور مصنوعی ذہانت میں ایسی ڈگریاں حاصل کریں جنہیں او ایس یو اور آئی آئی ٹی بامبے ، دونوں تسلیم کرتے ہیں، اور یہ سب فرنٹیئر سینٹر کے تحت ممکن ہوتا ہے۔
ہندوستانی طلبہ کے لیے یہ ایک ایسا موقع ہے جو ان کے کریئر کی سمت کا تعین کرسکتا ہے۔ سنگھ کہتی ہیں ’’طلبہ کو عالمی سطح پر تجربہ حاصل ہوگا جو یقینی طور پر ان کے ریسرچ پورٹ فولیو میں اضافہ کرے گا۔‘‘ امریکی طلبہ کو بھی ایک بالکل مختلف تعلیمی تناظر میں کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں ’’یہ محققین یہ تجربات حاصل کر کے اپنے اپنے ممالک واپس جاتے ہیں اور اپنے تعلیمی و تحقیقی نظام میں قدر کا اضافہ کرتے ہیں‘‘ اور اسے وہ دونوں ممالک کے لیے ایک ’’فورس ملٹی پلائر‘‘ (ایسی قوت جو اثرات کو کئی گنا بڑھا دے) قرار دیتی ہیں۔
یہ سینٹر صرف طلبہ کو مہارتوں سے آراستہ کرنے اور تحقیق میں سہولت فراہم کرنے تک محدود نہیں ہے۔ سنگھ وضاحت کرتی ہیں کہ یہ ادارہ اعلیٰ سطح کی تحقیق کو عملی اطلاق میں منتقل کرنے کے چیلنج سے بھی نمٹتا ہے۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کے بڑے صنعتی رہنماؤں کو ایک ساتھ لایا جاتا ہے اور ان کی مہارت سے تحقیقی منصوبوں اور نصاب کی تشکیل کی جاتی ہے۔ جب تعلیمی ادارے تجارتی ضروریات اور روزگار کے تناظرات سے باخبر ہوتے ہیں، تو وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت کو براہِ راست تیز رفتار ترقی کرنے والے شعبوں کی جانب منتقل کرتے ہیں۔
پختہ مہارت
فرنٹیئر سینٹر کے ذریعے امریکہ اور ہندوستان مل کر امریکی مہارت کو سیمی کنڈکٹرس جیسے ترجیحی شعبوں میں مواقع میں تبدیل کر رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک میں ٹیلنٹ پائپ لائنز (ماہر افراد کی مسلسل فراہمی کا نظام) مضبوط ہو رہی ہیں۔
ان مواقع کی تشکیل میں اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کا کردار نہایت اہم ہے۔ سنگھ کہتی ہیں ’’ریاست اوہائیو سیمی کنڈکٹر اور چِپس کے انقلاب کے عین مرکز میں ہے۔‘‘ وہ وضاحت کرتی ہیں ’’انٹیل، جو چِپس بنانے والی بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے، کا کولمبس میں پلانٹ ہے اور او ایس یو کے ساتھ اس کی مضبوط شراکت داری موجود ہے۔‘‘ انسٹی ٹیوٹ فار میٹیریلز اینڈ مینوفیکچرنگ ریسرچ (آئی ایم آر) ، جو ایک بین شعبہ جاتی ادارہ ہے اور او ایس یو میں مادّوں سے متعلق تحقیق میں کرتا ہے، فرنٹیئر سینٹر کی بنیاد ہے۔ آئی ایم آر، جو سیمی کنڈکٹر فیبریکیشن (چِپس بنانے کے عمل) کو آگے بڑھانے کے لیے انٹیل کارپوریشن کے ساتھ قریبی تعاون کرتا ہے، فرنٹیئر سینٹر کے محققین کو صنعتی رہنماؤں کی رہنمائی میں مادّوں کی مہارت تک بے مثال رسائی فراہم کرتا ہے۔
وہ کہتی ہیں ’’ہندوستانی محققین کے لیے مواقع بہت وسیع ہیں، کیونکہ ایک پختہ تناظر اور نظام (او ایس یو میں) سے سیکھنا انہیں ہندوستان کی ترقی پذیر افرادی قوت میں مؤثر طور پر شامل ہونے کے قابل بنائے گا۔‘‘
آغاز کی کہانی
ممبئی میں او ایس یو آفس آف انٹرنیشنل افیئرس انڈیا گیٹ وے، جو ۲۰۱۲ءمیں ممبئی کے امریکی قونصل خانہ کی حمایت سے قائم ہوا، نے تعلیمی اور صنعتی تعاون کو مزید قریب لانے کی بنیاد رکھی۔ ۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۹ءکے درمیان ہونے والے گہرے تبادلے—جن میں مشترکہ عطیات اور اساتذہ کے باہمی دورے شامل تھے، اور جن کی قیادت آرداشر کنٹریکٹر نے کی، جو او ایس یو کے پروفیسر ہیں اور آئی آئی ٹی بامبے سے وابستہ ہیں—
بالآخر ۲۰۱۹ء میں فرنٹیئر سینٹر کے قیام پر منتج ہوئے۔ اس کے بعد سے، یہ سینٹر سیمی کنڈکٹرس، فوٹونکس اور امیجنگ، پاور الیکٹرانکس اور سسٹمس، اور کوانٹم سائنس پر مشتمل 23 تحقیقی منصوبوں کی معاونت کر چکا ہے۔
سنگھ کا ماننا ہے کہ یہ اشتراک امریکہ اور ہندوستان، دونوں کے لیے تعلیمی اور تحقیقی ترقی کے بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔ تعلیم کی طاقت پر پختہ یقین رکھنے والی سنگھ کے نزدیک، آئی آئی ٹی بامبے –او ایس یو فرنٹیئر سینٹر اس صلاحیت کو حقیقت میں بدلنے کی سمت ایک نہایت اہم قدم ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دنیا کے دونوں کناروں پر موجود اگلی نسل کے محققین مل کر مشترکہ چیلنجوں کا سامنا کر سکیں۔