دہلی کے علاقہ اتم نگر میں پیش آئے حالیہ افسوسناک واقعہ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایک اہم وفد نے دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) ضلع دوارکا سے ملاقات کی۔ یہ وفد جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر تشکیل دیا گیا تھا اور اس کی قیادت جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے ناظم اعلیٰ مفتی عبدالرازق مظاہری نے کی۔
وفد نے ڈی سی پی سے ملاقات کے دوران اتم نگر میں پیش آئے واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور اس کے بعد علاقے میں پیدا ہونے والی فرقہ وارانہ کشیدگی، خوف و ہراس اور بعض شرپسند عناصر کی جانب سے ماحول خراب کرنے کی کوششوں پر شدید تشویش ظاہر کی۔ جمعیۃ علماء کے نمائندوں نے پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں امن و امان کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے اور اشتعال انگیزی پھیلانے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔
وفد نے پولیس کو بتایا کہ اس واقعہ کے بعد مقامی باشندوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے اور لوگ خوف و تشویش میں مبتلا ہیں۔ ایسی صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت اقدامات کے ذریعے حالات کو قابو میں رکھے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
جمعیۃ علماء کے نمائندوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تجاوزات یا غیر قانونی تعمیرات کا مسئلہ کسی ایک مذہب یا کمیونٹی تک محدود نہیں ہوتا۔ مختلف علاقوں میں مختلف طبقات کے لوگ اس طرح کے معاملات میں ملوث ہو سکتے ہیں، اس لیے اگر کہیں کارروائی کی جائے تو وہ مکمل طور پر قانون کے دائرے میں اور غیر جانبداری کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ کسی ایک کمیونٹی کو نشانہ بنانا معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
وفد نے اس رجحان پر بھی سخت اعتراض کیا کہ بعض جگہوں پر کسی ایک ملزم کے جرم کی بنیاد پر اس کے اہلِ خانہ یا رشتہ داروں کے مکانات کو منہدم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے یا ایسی کارروائیوں کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ نمائندوں نے واضح کیا کہ اگر جرم کسی فرد نے کیا ہے تو سزا بھی اسی فرد تک محدود رہنی چاہیے، خاندان کے دیگر افراد کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ آئینی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
جمعیۃ علماء کے وفد نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود بعض مقامات پر بلڈوزر کارروائیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں جو تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عدالت عظمیٰ کے احکامات کا مکمل احترام کیا جائے اور ہر کارروائی آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق انجام دی جائے۔
اس موقع پر وفد نے یہ مسئلہ بھی اٹھایا کہ کچھ فرقہ پرست عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے رمضان المبارک اور آئندہ آنے والی عید الفطر کے حوالے سے اشتعال انگیز بیانات اور دھمکیاں دے رہے ہیں۔ وفد نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔
وفد نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ رمضان المبارک اور عید الفطر کے دوران مساجد، عبادت گاہوں اور حساس علاقوں میں مناسب سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں تاکہ لوگ سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض ادا کر سکیں۔
اس موقع پر ڈی سی پی نے وفد کو یقین دلایا کہ دہلی پولیس پورے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی اولین ترجیح شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اور علاقے میں امن قائم رکھنا ہے۔ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ملاقات میں مفتی عبدالرازق مظاہری کے علاوہ قاری دلشاد احمد مظاہری، قاری محمد ساجد فیضی، قاری اسرارالحق قاسمی، ڈاکٹر رضاؤالدین شمس، مولانا جمیل احمد قاسمی، محمد رفیع عطا، فیروز احمد، ایس سولنکی اور انور غوری بھی وفد کا حصہ تھے۔