بھارت میں ڈیجیٹل شناخت اور پرائیویسی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر حکومت نے اعلان کیا ہے کہ صرف تین ماہ کے اندر اندر کم از کم 100 اداروں کو آدھار پر مبنی آف لائن ویریفیکیشن سسٹم سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ یہ ادارے “آف لائن ویریفیکیشن سیکنگ اینٹٹیز” (OVSEs) کے طور پر اس نظام کا حصہ بنے ہیں، جس کا مقصد شہریوں کو محفوظ، رضامندی پر مبنی اور کاغذ سے پاک شناختی تصدیق کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
یہ اقدام Unique Identification Authority of India کی جانب سے کیا گیا ہے، جو ملک میں آدھار نظام کو منظم اور مؤثر بنانے کی ذمہ دار ادارہ ہے۔ اس نئے نظام کے تحت اب اداروں کو شہریوں کی شناخت کی تصدیق کے لیے مرکزی ڈیٹا بیس تک براہ راست رسائی کی ضرورت نہیں ہوگی، جس سے ڈیٹا سیکیورٹی اور پرائیویسی میں مزید بہتری آئے گی۔
بھارت کی وزارت برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق ان 100 اداروں میں مختلف شعبوں کی تنظیمیں شامل ہیں۔ ان میں مرکزی اور ریاستی حکومت کے محکمے، فِن ٹیک کمپنیاں، ہوٹل انڈسٹری، ایونٹ مینجمنٹ ادارے، تعلیمی اور امتحانی بورڈز، اور بیک گراؤنڈ ویریفیکیشن اور ورک فورس اسکریننگ کرنے والی کمپنیاں شامل ہیں۔ ان اداروں کی شمولیت سے سروسز کی فراہمی تیز، آسان اور زیادہ شفاف ہونے کی توقع ہے۔
نیا آدھار آف لائن ویریفیکیشن سسٹم شہریوں کو یہ سہولت دیتا ہے کہ وہ اپنی شناخت محدود اور ضروری معلومات کے ذریعے شیئر کر سکیں۔ یہ عمل QR کوڈ بیسڈ ویریفیکیشن اور ڈیجیٹل طور پر دستخط شدہ دستاویزات کے ذریعے مکمل کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ شہری اپنی ذاتی معلومات پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں اور خود طے کرتے ہیں کہ کون سی معلومات کس کے ساتھ شیئر کرنی ہے۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نظام کے ذریعے نہ صرف ڈیٹا سیکیورٹی میں اضافہ ہوگا بلکہ سروس ڈیلیوری بھی زیادہ تیز اور مؤثر بنے گی۔ کاغذی کارروائی میں کمی آنے سے مختلف اداروں میں شناختی عمل آسان ہوگا اور شہریوں کو طویل انتظار سے نجات ملے گی۔حکام کے مطابق اس نظام کی سب سے بڑی خوبی اس کی اسکیل ایبلٹی اور ریزیلینس ہے، یعنی یہ بڑی تعداد میں صارفین کو مؤثر طریقے سے ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بھارت کے اس وسیع وژن کے مطابق ہے جس کا مقصد ایک مضبوط ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر قائم کرنا ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ یہ نیا نظام “یوزر کنسینٹ” یعنی صارف کی رضامندی کو مرکز میں رکھتا ہے، جس سے شفافیت اور اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ اس اقدام کو شہریوں کے لیے “ایز آف لیونگ” میں بہتری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اب مختلف خدمات حاصل کرنا نہ صرف تیز ہوگا بلکہ زیادہ محفوظ بھی ہوگا۔ماہرین کا ماننا ہے کہ آدھار پر مبنی یہ آف لائن ویریفیکیشن نظام مستقبل میں ڈیجیٹل شناخت کے طریقہ کار کو مزید جدید اور مؤثر بنائے گا، اور اس سے حکومت اور نجی شعبے دونوں میں کام کرنے کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی آئے گی۔