یونیورسٹی آف حیدرآباد کی اسٹوڈنٹس یونین نے آج سے غیرمعینہ مدت کیلئے احتجاج اور کلاسوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیاہے جس میں کیمپس سے پولیس عہدیداروں اور زمین سے چلنے والی مشینری کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسٹوڈنٹس یونین کے نائب صدر آکاش نے کہاکہ طلبا اور اساتذہ سے کیمپس میں احتجاج میں شامل ہونے اور کلاسوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ طلبا کی دیگر تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں یونیورسٹی انتظامیہ پر ریاستی حکومت کیلئے گچی باولی میں 400ایکڑ پر زمین صاف کرنے کی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرکے طلبا کو دھوکہ دینے کا الزام لگایا۔
انہوں نے پرامن مظاہرین پر پولیس کے وحشیانہ کریک ڈاؤن کی بھی مذمت کی۔احتجاج کرنے والے طلباء نے تحریری یقین دہانی کا مطالبہ کیا کہ زمین کا باضابطہ طور پر یونیورسٹی کے تحت اندراج کیا جائے گا۔انہوں نے یونیورسٹی کی طرف سے اس معاملے پر منعقدہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے منٹس کو عام کرنے اور زمین سے متعلق دستاویزات میں زیادہ شفافیت پر بھی زور دیا۔
بی آر ایس لیڈر ڈی شراون نے کیا کہا؟
بی آر ایس لیڈر ڈی شراون نے کہاکہ جب ریاستی سطح پر روڈی ازم ایک اصول بن جاتاہے اور ایک غلط انسان حکمران بن جاتاہے تو انسانیت کو نقصان پہنچتاہے اور فطرت تبا ہوجاتی ہے۔ اور یہی سب کچھ ریاست تلنگانہ میں ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بالخصوص حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں جہاں چار سو ایکڑ اراضی ہے حکومت اس کو فروخت کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس اراضی پر ہزاروں قسم کے درخت پھول پودے اور سینکڑوں قسم کے پرندے موجود ہیں۔
شراون نے کہاکہ ریونت ریڈی اس چار سو ایکڑ جنگلاتی اراضی کو رئیل اسٹیٹ پروجیکٹ میں تبدیل کرنے کے نام پر غیر قانونی کمیشن حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایسے حالات جب چھتیس گڑھ اور مہاراشٹرا میں ہوتے ہیں تو راہول گاندھی سوال کرتے ہیں لیکن یہی صورتحال جب تلنگانہ میں پیدا ہورہے ہیں تو راہول گاندھی خاموش ہیں۔
بی جے پی وفد کاحیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کا دورہ
الیٹی مہیشور ریڈی۔ پائل شنکر اور دیگر ایم ایل ایز پر مشتمل بی جے پی کا ایک وفد نے آج حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کا دورہ کرے گا۔ تاہم اس سے قبل ہی حکومت نے یہاں بھاری پولیس تعینات کردی ہے۔ اس دوران بی جے پی لیڈر اور ڈپٹی فلور لیڈر پائل شنکر نے گچی باولی کے کانچے میں 400 ایکڑ اراضی پر پولیس کی تعیناتی پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ اس زمین کیلئے طلبا احتجاج کررہے ہیں لیکن حکومت پیسوں کیلئے اس اراضی کو فروخت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
پائل شنکر نے کہاکہ یہ حکومت کی اراضی ہوسکتی ہے لیکن حکومت پیسوں کیلئے اس کو فروخت کردے یہ ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی کے طلبا اس زمین کیلئے احتجاج کررہے ہیں لیکن چیف منسٹر اس کی پرواہ کئے بغیر اسے فروخت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بی جے پی لیڈر نے کہاکہ چیف منسٹر بھی اسی نقش قدم پر چل رہے ہیں جس پر کے سی آر چلا کرتے تھے۔